جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 54
54 آپ کے لئے منجزانہ رنگ میں انتظام فرما دیتا تھا۔ان مقامات پر جو چوٹی کے عالم اور حکیم تھے اُن سے آپ نے دینی اور طبی علوم حاصل کئے۔66-1865ء میں آپ نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کا پہلا سفر کیا۔ڈیڑھ برس وہاں رہ کر دینی علوم حاصل کئے اور حج کا شرف حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے اور بھیرہ میں قرآن مجید و احادیث کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر دیا۔ساتھ ہی آپ نے مطب بھی جاری کر دیا۔طب میں آپ کی شہرت اتنی بڑھی کہ دور دراز سے لوگ آپ کی خدمت میں علاج کے لئے حاضر ہوتے تھے حتی کہ کشمیر کے مہاراجہ کی درخواست پر آپ وہاں تشریف لے گئے اور ایک عرصہ تک خاص شاہی طبیب کے طور پر دربار جموں وکشمیر سے وابستہ رہے۔اس عرصہ میں آپ مطب کے علاوہ ریاست میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے بھی کوشاں رہے اور درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔1885ء میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کا ایک اشتہار پہلی بار پڑھا۔اس کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ حضور کی زیارت کے لئے قادیان پہنچ گئے اور حضور پر پہلی نظر ڈالتے ہی حضور کی صداقت کے قائل ہو گئے۔یہ آپ کی حضور کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔اس ملاقات کے بعد آپ ہمیشہ کے لئے حضور کے جاں نثار خادموں میں شامل ہو گئے۔جب 1889ء میں بمقام لدھیانہ پہلی بار بیعت ہوئی تو آپ نے سب سے پہلے نمبر پر بیعت کرنے کا فخر حاصل کیا۔1890ء میں جب حضور نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر بھی بلا تامل آپ حضور کے دعوئی پر ایمان لے آئے۔شادی حضرت مولوی صاحب کی پہلی شادی تھیں برس کی عمر میں بمقام بھیرہ مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی کی صاحبزادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی۔آپ