جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 55
55 کی یہ اہلیہ 1905ء میں وفات پاگئیں۔دوسری شادی 1889ء میں حضرت مسیح موعود کی تحریک پر لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کی صاحبزادی حضرت صغریٰ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ان کی وفات 1955ء میں بمقام ربوہ ہوئی۔تصانیف: 1887-88ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی تحریک پر عیسائیت کے رڈ میں ایک کتاب فصل الخطاب شائع فرمائی۔پھر 1890ء میں حضور کی زیر ہدایت پنڈت لیکھرام کی کتاب تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں ” تصدیق براہین احمدیہ ملازمت سے فراغت اور قادیان میں ہجرت : 1892ء میں ریاست جموں وکشمیر سے آپ کی ملازمت کا سلسلہ جو 1886ء میں قائم ہوا تھا ختم ہو گیا۔آپ نے ریاست میں قرآن کریم کے درس و تدریس اور تبلیغ دین حق کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا وہی اس ملازمت کے خاتمہ کا موجب ہوا۔مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات پر اس کے جانشین مہاراجہ پرتاپ سنگھ اور اس کے چند درباری اسلام سے اور حضرت مولوی صاحب سے خاص بغض و تعصب رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے آپ کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔آپ وہاں سے واپس اپنے وطن بھیرہ تشریف لے آئے جہاں پر آپ نے وسیع پیمانے پر ایک شفاخانہ قائم کرنے کا ارادہ کیا اور عالیشان مکان کی تعمیر شروع کروادی۔1893ء میں جبکہ مکان کی تعمیر بھی جاری تھی آپ کسی کام کے لئے لاہور تشریف لے گئے وہاں پر آپ کو حضرت مسیح موعود کی زیارت کا خیال آیا۔چنانچہ آپ قادیان تشریف لے گئے۔حضور نے فرمایا۔اب تو آپ ملازمت سے فارغ