جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 23
23 دیں کہ یہ خط میں نے اس پیکٹ میں نہیں رکھا تھا۔رلیا رام نے دشمنی کی وجہ سے خود میرا یہ خط پیکٹ میں رکھ دیا ہے جب یہ مشورہ حضور کے سامنے پیش ہوا تو حضور نے فرمایا جب خط خود میں نے پیکٹ میں رکھا تھا تو پھر میں محض سزا سے بچنے کے لئے ہرگز اس سے انکار نہیں کروں گا۔وکیلوں نے کہا کہ پھر تو آپ کی رہائی کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آتی۔حضور نے فرمایا جو ہو گا دیکھا جائے گا۔بہر حال میں جھوٹ ہرگز نہیں بولوں گا۔چنانچہ جب عدالت نے دریافت کیا کہ کیا خط آپ نے خود پیکٹ میں رکھا تھا۔تو حضور نے فرمایا۔ہاں میں نے ہی رکھا تھا کیونکہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ ایسا کرنا ڈاکخانہ کے قوانین کے خلاف ہے مخالف فریق بہت خوش تھا کہ اب تو حضور نے اپنے جرم کا خود اقرار کر لیا ہے اب ضرور حضور کو سزا مل جائے گی۔مگر خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ جس حج کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا وہ حضور کی سچائی اور نیکی سے بہت متاثر ہوا۔چنانچہ اس نے حضور کو عزت کے ساتھ بری کر دیا۔گویا سچ بولنے کی برکت سے ہی اللہ تعالیٰ نے اس مقدمہ میں آپ کو فتح عطا فرمائی۔بڑے بھائی کی وفات: 1881ء میں آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب فوت ہو گئے۔چونکہ آپ کی اولا د نہیں تھی اس لئے اُن کی جائیداد کے بھی آپ ہی وارث تھے لیکن اُن کی بیوہ کی دلداری کے لئے آپ نے جائیداد پر قبضہ نہ کیا اور یہ جائیداد مدت تک آپ کے رشتہ داروں کے قبضہ میں رہی۔دوسری شادی: آپ کی دوسری شادی 1884ء میں اللہ تعالیٰ کے منشاء اور ایک خاص الہام کے ماتحت دہلی کے ایک مشہور سادات خاندان کی ایک معزز اور پاکباز خاتون حضرت