جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 24 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 24

24 سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ سے ہوئی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ الہام پورا ہوا کہ :- ” میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔یہ سب سامان میں خود کروں گا۔“ (حیات طیبہ صفحہ 73) آپ کے خسر صاحب کا نام حضرت میر ناصر نواب صاحب تھا جو کہ اُردو کے مشہور شاعر حضرت خواجہ میر در درحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے اور خود بھی بہت نیک اور بزرگ انسان تھے، 17 نومبر 1884ء کو بمقام دہلی مشہور عالم مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے آپ کے نکاح کا اعلان کیا اور نکاح کے ساتھ ہی رخصتانہ کی تقریب عمل میں آئی۔یہ شادی اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق بہت ہی با برکت اور کامیاب ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقدس اولا د عطا فرمائی جس کے متعلق بڑی عظیم الشان بشارتیں ملی تھیں اور یہ بشارتیں اپنے وقت پر پوری ہوئیں جن کا مشاہدہ آج ہم اپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔مبشر اولاد: اس شادی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس بچے عطا فرمائے ان میں سے پانچ بچے تو کم عمری میں ہی فوت ہو گئے باقی پانچ بچے یہ ہیں :- حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی (1 (2 (3 تاریخ پیدائش 12 جنوری 1889ء - تاریخ وفات 8 نومبر 1965ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تاریخ پیدائش 20 را پریل 1893ء – تاریخ وفات 2 ستمبر 1963ء حضرت مرزا شریف احمد صاحب تاریخ پیدائش 24 مئی 1895ء - تاریخ وفات 26 /دسمبر 1961ء