جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 22
22 کتاب کا یہ اثر ہوا کہ باوجود اس کے کہ آپ نے اس کتاب کا جواب لکھنے کا انعامی چیلنج دیا اور للکارا کہ کوئی غیر مسلم میدان میں آکر اس کے دلائل کو توڑے لیکن کسی دشمن اسلام کو اس کا جواب لکھنے کی جرات نہ ہوئی البتہ وہ آپ کی سخت مخالفت کرنے لگے۔مختلف طریقوں سے انہوں نے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن ہر کوشش میں وہ ناکام رہے اور وہ آپ کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے۔مقدمہ ڈاکخانہ : 1877ء میں حضرت مسیح موعود پر ایک عیسائی رلیا رام وکیل نے ایک مقدمہ دائر کیا جو سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں مقدمہ ڈاکخانہ کے نام سے مشہور ہے۔ہوا یہ کہ حضور نے ہندوؤں کے فرقہ آریہ سماج کے مقابل میں اسلام کی تائید میں ایک مضمون لکھا اور وہ امرتسر کے ایک پریس میں چھپوانے کے لئے پیکٹ کی صورت میں بھیج دیا۔اس پیکٹ میں حضور نے ایک خط بھی رکھ دیا۔اس زمانہ میں ڈاکخانہ کے جو قواعد تھے ان کی رُو سے کسی پیکٹ میں خط رکھ دینا جرم تھا جس کی سزا پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید تھی مگر حضور کو اس کا علم نہ تھا۔پیکٹ حضور نے امرتسر کے جس پریس میں بھیجا اُس کا مالک رلیا رام ایک عیسائی تھا۔جب اس نے یہ پیکٹ وصول کیا تو اُس نے اسلام کی دشمنی کی وجہ سے ڈاکخانہ والوں کو اس کی اطلاع کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود پر مقدمہ دائر ہو گیا۔انہیں دنوں حضور کو خواب آیا کہ رلیارام وکیل نے ایک سانپ حضور کو کاٹنے کے لئے بھیجا ہے مگر حضور نے مچھلی کی طرح تل کر اُسے واپس کر دیا ہے۔جب مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو وکیلوں نے حضور کو مشورہ دیا کہ اس مقدمہ میں سزا سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ حضور عدالت میں یہ بیان