جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 96
96 حضرت حافظ روشن علی صاحب جماعت کے اعلیٰ درجہ کے عالم تھے۔قرآن مجید بڑی خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔محترم مولانا شمس صاحب اور محترم مولانا ابوالعطا صاحب کے استاد تھے۔1924ء کے سفر یورپ میں حضور کے ہمراہ تھے۔1929ء میں وفات پائی۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر حضرت مسیح موعود کے رفیق تھے۔خلافت ثانیہ کے زمانہ میں سب سے پہلے مغربی افریقہ میں جا کر تبلیغ کرنے کا موقعہ ملا اور وہاں پر ہزاروں افراد آپ کے ہاتھ پر احمدی ہوئے۔تقریر ایسے رنگ میں کرتے تھے جو بہت اثر کرنے والی ہوتی تھی۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سلسلہ کے بہت بڑے عالم اور بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق تھا۔آپ کی دعائیں بہت مقبول تھیں اور الہامات یا کشوف کے ذریعہ دعاؤں کی قبولیت سے بھی اطلاع ہو جاتی تھی۔تبلیغی میدان میں بہت کام کیا۔آپ کی کتاب ”حیات قدسی“ پڑھنے کے لائق ہے اگر موقع ملے تو ضرور پڑھو۔ان کی تاریخ وفات 15 دسمبر 1963ء ہے۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس: حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس جماعت احمدیہ کے ایک بہت بڑے عالم اور کامیاب مبلغ تھے۔ایک عرصہ تک عرب ممالک میں اور پھر انگلستان میں کامیابی کے ساتھ تبلیغ کا کام کرتے رہے۔واپس آکر جماعت کے مختلف اہم کام آپ کے سپر در ہے۔حضرت خلیفہ ثانی کی آخری بیماری کے ایام میں آپ ہی حضور کے حکم پر نمازیں پڑھاتے اور خطبات دیتے تھے۔آپ کی خدمات کی بنا پر حضور نے