جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 95
95 حضور باہر تشریف لے جاتے تو اکثر آپ کو قائمقام امیر مقرر فرماتے۔اللہ تعالیٰ نے الہام میں آپ کو فرشتہ قرار دیا اور واقعی آپ کی زندگی فرشتوں جیسی تھی۔آپ نے 1947ء میں بمقام لا ہور وفات پائی۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب: حضرت اماں جان کے بھائی اور حضرت خلیفہ ثانی کے ماموں اور حضرت ام متین مریم صدیقہ صاحبہ کے والد تھے۔بہت نیک ، بے نفس اور روحانیت کے رنگ میں رنگین بزرگ تھے۔اعلیٰ درجہ کے شاعر اور مضمون نگار تھے۔آپ کی نظمیں جماعت میں بہت مقبول ہیں۔1947ء میں قادیان میں انتقال فرمایا۔حضرت سید میر محمد الحق صاحب: حضرت اماں جان کے بھائی اور حضرت اصلح الموعود کے چھوٹے ماموں تھے۔بہت بڑے عالم اور اعلیٰ پایہ کے مقرر اور مناظر تھے۔جماعت کے غریبوں اور یتیموں کا خاص طور پر بہت خیال رکھتے تھے۔آپ کا درس الحدیث بہت مؤثر اور مقبول ہوتا تھا۔انتظامی قابلیت بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی تھی۔سالہا سال تک افسر جلسہ سالانہ اور افسر لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کے فرائض بڑی کامیابی کے ساتھ سرانجام دیئے۔1944ء میں انتقال فرمایا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب : سلسلہ عالیہ کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے اور حضرت خلیفہ ثانی کے استاد ہونے کا بھی فخر حاصل تھا۔جب حضور تشریف نہ لا سکتے تو بیت مبارک میں آپ ہی نماز پڑھایا کرتے تھے۔