جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 81
81 (7 کے خلاف بھڑ کانے لگے۔جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان کی شرارتوں کو دیکھا تو آپ نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔مگر اس استعفیٰ کے باوجود کشمیری مسلمانوں کی آخری وقت تک مدد کرتے رہے۔جب ملک کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت بھی حضرت اقدس نے مسلمانوں کے مفاد کے لئے بہت سے اہم کام سرانجام دیئے۔قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم ہندوستانی مسلمانوں کے اختلاف دیکھتے ہوئے لندن چلے گئے تھے اور وہاں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔حضرت اقدس نے اپنے نمائندے کے ذریعے انہیں تحریک کی۔کہ آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے واپس وطن آ جانا چاہئے۔چنانچہ قائد اعظم واپس تشریف لے آئے اور آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلمانوں کو جمع کر کے پاکستان حاصل کرنے کی جدو جہد شروع کی جسے خدا تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔1947 ء میں ملک کی تقسیم کے وقت کئی ایسے نازک وقت آئے جبکہ بظاہر معمولی ی غلطی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو بہت نقصان کا خطرہ تھا۔ایسے نازک موقعوں پر بھی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے قائد اعظم کی پوری پوری مدد کی اور پاکستان قائم کرنے کی جدوجہد میں حصہ لیا۔اخبار الفضل: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کا ایک نہایت اہم کارنامہ اخبار الفضل کا اجراء ہے یہ اخبار حضور نے 18 جون 1913 ء کو قادیان سے جاری فرمایا۔اس کے پہلے ایڈیٹر بھی حضور خود تھے یہ اخبار پہلے ہفتہ وار تھا۔پھر ہفتہ میں دو بار شائع ہونے لگا۔پھر سہ روزہ ہو گیا۔آخر 8/ مارچ 1935ء سے مستقل طور پر روزانہ کر دیا گیا۔1947 ء تک قادیان سے شائع ہوتا رہا۔قیامِ پاکستان کے بعد 1954 ء تک لاہور سے شائع ہوتا رہا۔1955ء سے ربوہ سے شائع ہو رہا ہے۔یہ جماعت احمدیہ کا واحد