جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 80 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 80

80 اُٹھایا اور کئی خطروں سے مسلمانوں کو محفوظ کر لیا۔(6 کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے مگر وہاں ایک غیر مسلم راجہ کی حکومت تھی جو مسلمانوں پر بہت ظلم کرتی تھا اور ہر رنگ میں انہیں وہاں دباتی چلی آتی تھی۔جب یہ مظالم حد سے بڑھ گئے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے دل میں کشمیری مسلمانوں کے لئے بہت ہی ہمدردی پیدا ہوئی چنانچہ آپ نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔آپ کی تحریک سے کشمیری مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنی آزادی کی تحریک شروع کی جس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کی راہنمائی فرمائی۔ہندوستان کے بڑے بڑے مسلمان لیڈروں نے مل کر 1931ء میں ایک کمیٹی بنائی جس کا نام تھا ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس میں ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم اور دوسرے کئی بڑے بڑے مسلمان لیڈر شامل ہوئے اس کمیٹی کا صدر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو بنایا گیا۔اس کمیٹی نے حضور کی راہنمائی میں بہت کامیابی حاصل کی۔کشمیر کے ہندو راجہ کو کئی ایسے حق مسلمانوں کے دینے پڑے جن سے وہ پہلے محروم چلے آتے تھے۔چنانچہ کشمیر کے بڑے بڑے مسلمان لیڈر جن میں شیخ محمد عبد اللہ بھی شامل تھے۔حضرت اقدس سے قادیان جا کر ملتے رہے اور انہوں نے زبانی اور تحریری بھی یہ اعتراف کیا کہ حضور نے عین وقت پر کشمیری مسلمانوں کی بہت بھاری مدد کی ہے۔پیارے بچو! تم جانتے ہی ہو کہ احمدیت کے مخالف بھی ہر جگہ ہوتے ہیں۔جب مخالفین نے یہ دیکھا کہ احمدی مسلمانوں میں بہت ہی مقبول ہورہے ہیں اور سب بڑے بڑے مسلمان لیڈر ہر ضروری مسئلہ میں امام جماعت احمدیہ سے مشورہ کرتے ہیں اور پھر اس مشورہ پر عمل بھی کرتے ہیں تو حسد کی وجہ سے ان کا بُرا حال ہو گیا انہوں نے کشمیر کمیٹی میں بھی احمدی اور غیر احمدی کا سوال کھڑا کر دیا اور ہر جگہ لوگوں کو احمد یوں