جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 37
37 رکھتا میرا بھروسہ تو اپنے خدا پر ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا خدا مجھے ضرور بچائے گا۔“ (الحکم 14 نومبر 1934ء) اس غیر احمدی وکیل نے بعد میں بیان کیا کہ میں حضور کی اس جرات پر حیران رہ گیا کہ قتل کا مقدمہ در پیش ہے مگر پھر بھی جھوٹ بولنے پر آمادہ نہیں ہوئے حالانکہ مقدمہ دائر کرنے والے عیسائی تھے اور جس حاکم کی عدالت میں یہ مقدمہ تھا وہ بھی عیسائی تھا اور مخالفین جن میں عیسائی، ہندو اور غیر احمدی سبھی شامل تھے۔حضور کو اس مقدمہ میں سزا دلانے کی پوری پوری کوشش کر رہے تھے لیکن ان تمام حالات کو دیکھنے کے باوجود حضور سچ پر قائم رہے اور جھوٹا بیان دینے کے لئے کسی حالت میں بھی تیار نہ ہوئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی برکت سے ہی آپ کو اس مقدمہ سے عزت کے ساتھ بریت بخشی۔تعلیم الاسلام اسکول کا قیام: 1898 ء کی ابتداء میں حضور نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے نام سے ایک اسکول جاری فرمایا۔اس اسکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مقرر ہوئے۔اس اسکول کی غرض حضور نے یہ بیان فرمائی کہ احمدی بچے دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم بھی حاصل کریں اور بڑے ہو کر سچے مسلمان اور حقیقی احمدی بنیں اور اسلام کی خدمت کرنے والے ثابت ہوں۔اخبار الحکم اور بدر کا اجراء: جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا اخبار الحکم 1897ء میں جاری ہوا۔اس کے مالک اور ایڈیٹر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تھے۔پہلے یہ اخبار امرتسر