جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 28 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 28

28 1889ء کو) حضرت مسیح موعود کے فرزند حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) پیدا ہوئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اپنے رسالہ ” سراج منیر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جس عظیم الشان فرزند کی اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی تھی وہ پیدا ہو گیا ہے اور بعد میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عہد خلافت کے واقعات نے عملی طور پر بھی ثابت کر دیا کہ یہ پیشگوئی آپ کے وجود میں پوری ہوگئی کیونکہ پیشگوئی کے الہامی الفاظ میں اس فرزند کی جو جو علامتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب کی سب اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہو گئیں۔الحمد للہ علی ذالک! وفات مسیح کا اعلان اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ: 1890 ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی دیگر نبیوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں اور یہ عقیدہ غلط اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے کہ حضرت عیسی اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔چنانچہ آپ نے 1891ء کے شروع میں اس کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ دعویٰ بھی فرمایا کہ جس مسیح اور مہدی کے آنے کی پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی وہ میں ہی ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسیح علیہ السلام کی صفات دے کر دنیا کی اصلاح کرنے اور دینِ حق کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے اور پھیلانے کے لئے بھیجا ہے۔اس اعلان اور دعویٰ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں ہر طبقہ کے بہت سے نیک لوگ آپ پر ایمان لے آئے وہاں ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مخالفت کی آگ بھی بھڑک اُٹھی۔اپنے اور بیگانے سبھی آپ کے دشمن ہو گئے مولویوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگا دیئے اور دوسری طرف عیسائیوں نے بھی آپ کی سخت