جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 27
27 عظیم الشان بشارت دی جو ہماری جماعت کی تاریخ میں ” پیشگوئی مصلح موعود“ کے نام سے مشہور ہے۔اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئندہ نو برس کے اندر ایک ایسے بیٹے کی بشارت دی جس کے ذریعے احمدیت کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوگی اور جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔پیشگوئی کا ایک حصہ یہ ہے:- میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مانگا سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔“ (اشتہار 20/فروری 1886ء) اس عظیم الشان پیشگوئی کے نتیجہ میں 9برس کے عرصہ میں (12/جنوری