جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 116 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 116

116 تیزی آگئی تھی۔26 اپریل 1984ء کو اُس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے ایک حکمنامہ جاری کیا جس پر عمل کرنے کی صورت میں احمدی کسی طرح بھی اپنے عقائد کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔خلیفہ وقت کا کام تو احمدیت کی ترقی، پھیلاؤ اور تربیت ہے۔اس حکمنامے سے یہ کام کرنا ناممکن تھا۔لہذا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے اپنے وطن سے ہجرت اختیار کی۔30 اپریل 1984 ء کو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت و تائید کے ساتھ لندن پہنچ گئے۔حضور اور جماعت کے لئے یہ بڑا سخت وقت تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے ترقی کے نئے نئے سامان پیدا فرمائے۔حضور بنفس نفیس واپس ربوہ نہ آسکے مگر MTA کے ذریعے دنیا میں ہر جگہ آپ کا دیدار کیا جا سکتا تھا۔صد سالہ جشن تشکر : حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے جماعت احمدیہ کے قیام پر سوسال گذرنے کے شکرانے کے طور پر ایک پروگرام ترتیب دیا تھا۔جس کا نام ”صد سالہ جشن تشکر“ تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی راہنمائی میں انتہائی جوش وخروش اور روحانی مسرتوں کے ساتھ سوممالک میں تقریبات منعقد ہوئیں۔معزز مہمانوں کو بلایا گیا۔نمائشیں لگائی گئیں۔ریڈیو اور ٹیلیویژن پر خبریں شائع ہوئیں۔تمام احمد یوں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے۔اہم عمارتوں پر چراغاں ہوا۔مٹھائیاں اور تحائف تقسیم کئے گئے۔مگر حکومت پاکستان نے اہل ربوہ کو کسی شکل اور کسی طریق سے بھی خوشی منانے کی اجازت نہ دی۔اہل ربوہ نے خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ بے کسی اور عاجزی سے دعائیں کیں۔23 / مارچ 1989ء کو بیت الفضل لندن اور ٹورنٹو انٹرنیشنل سنٹر میں بڑے اجتماعات ہوئے۔قرآن پاک کی منتخب سو آیات کا ترجمہ وسیع پیمانے پر پیش کیا گیا۔