جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 101
101 پھر 1939ء میں آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔فروری 1939 ء سے لے کر اکتوبر 1949 ء تک آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر رہے اور پھر نومبر 1954ء تک آپ اس کے نائب صدر رہے کیونکہ صدارت کے عہدے پر حضرت خلیفہ ایح الثانی خود فائز تھے۔آپ کے عہد میں خدام الاحمدیہ نے نمایاں اور شاندار ترقی کی۔مئی 1944ء سے لے کر نومبر 1965 ء تک ( تا خلافت ) آپ تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل رہے۔16 نومبر 1947 ء کو آپ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے۔1953ء کے فسادات کے دوران جب مارشل لاء نافذ ہوا تو آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔28 مئی 1953ء کو آپ رہا ہوئے۔1954ء میں آپ کو مجلس انصاراللہ کا صدر بنادیا گیا۔آپ کے ذریعہ سے اس تنظیم کو ایک نئی زندگی حاصل ہو گئی۔مئی 1955ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے آپ کو صدرانجمن احمدیہ کا صدر مقرر فرمایا۔چنانچہ انتخاب خلافت تک آپ اس حیثیت سے بھی جماعت کا نہایت اہم کام سرانجام دیتے رہے۔8 نومبر 1965ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات پر آپ خلافت ثالثہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ بشارت پوری ہوئی جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو اللہ تعالیٰ نے دی تھی۔حضور نے 26 ستمبر 1909ء کو یہ تحریر فرمایا تھا که: مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ میں تجھے ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا۔اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 320) پیارے بچو! خلافت ثالثہ کا ظہور بھی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہایت کامیاب اور مبارک رہا۔آپ کے دور خلافت کی پیشگوئی بھی آج سے ہزاروں سال