جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 78
78 جب یہ خبر حضور کولنڈن میں پہنچی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا مگر اس امر کی خوشی بھی ہوئی ایک احمدی نوجوان نے قربانی اور ثابت قدمی کا اتنا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔لنڈن کے اخباروں بلکہ ساری دنیا کے انصاف پسند لوگوں نے اس ظالمانہ کاروائی پر سخت نفرت کا اظہار کیا۔ملکی معاملات میں مسلمانوں کی راہنمائی: حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایک مذہبی جماعت کے لیڈر تھے۔اس لئے آپ ملک کے سیاسی معاملات میں حصہ لینا پسند نہیں کرتے تھے۔لیکن چونکہ آپ کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت ہی ہمدردی تھی اور ملکی معاملات کا مسلمانوں پر بھی اثر پڑتا تھا۔اس لئے آپ نے کئی نازک اور ضروری مواقع پر بڑی عمدگی کے ساتھ مسلمانوں کی راہنمائی اور مدد کی مثلاً :- (1 1921ء میں مسلمانوں میں تحریک ہجرت شروع ہوئی بعض مسلمان لیڈروں نے یہ تحریک کی کہ چونکہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ہے جو کہ کافر ہیں اس لئے اس ملک سے ہجرت کر کے مسلمانوں کو افغانستان چلے جانا چاہئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ یہ تحریک ناکام ہو گی اور یہ مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ تحریک ناکام ہوگئی اور ہجرت کرنے والے سخت نقصان اُٹھا کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔(2 ہندوؤں کی طرف سے متواتر ایسی کتابیں شائع ہوتی رہتی تھیں جن میں آنحضرت ملالہ کی شان میں سخت تو مین کی جاتی تھی اور مسلمانوں کے دل دُکھائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ سے کئی جگہ ہندو مسلم فساد بھی ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک ایسا قانون بنوانے کی کوشش کی جس سے کوئی شخص مذہبی پیشواؤں کی بے عزتی نہ کر سکے چنانچہ حضور کی کوشش سے حکومت نے ایک ایسا قانون بنایا جس میں