جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 77
77 پہلا سفر لنڈن: 1924ء میں لنڈن میں ایک مشہور نمائش ہوئی جسے ویمبلے نمائش کہتے ہیں۔اس موقعہ پر ایک کا نفرنس بھی ہوئی جس میں مختلف مذہبوں کے نمائندوں کو اپنے اپنے مذہب کو پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔یہ دعوت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو بھی ملی جس میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ حضور خود لنڈن آکر اس کا نفرنس میں شامل ہوں۔چنانچہ حضور نے جماعت سے مشورہ کرنے کے بعد خود اس میں شامل ہونے کا فیصلہ فرمایا۔حضور بارہ احمدیوں کے قافلہ کے ساتھ 12 جولائی 1924ء کو بمبئی سے سمندری جہاز میں روانہ ہوئے۔راستہ میں مصر، شام اور فلسطین میں بھی ٹھہرے۔لنڈن میں آپ کا لکھا ہوا مضمون حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھ کر سنایا یہ مضمون بہت ہی پسند کیا گیا۔اس موقعہ پر آپ نے 19 اکتوبر 1924ء کولنڈن میں پہلی احمد یہ بیت الذکر کی بنیاد رکھی۔اس بیت الذکر کا افتتاح 1926ء میں کیا گیا۔یہ سفر تبلیغی لحاظ سے بہت کامیاب رہا۔جس جس ملک سے بھی آپ گزرے وہاں پر لوگوں نے احمدیت کے ساتھ بہت دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریباً چار ماہ تک اس سفر پر رہنے کے بعد آپ بڑی کامیابی کے ساتھ واپس تشریف لائے۔کابل میں ایک اور احمدتی کی شہادت: 1924ء میں جبکہ ابھی حضور لندن میں تھے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اور احمدی کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے بڑی بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ سنگسار کر کے شہید کر دیا گیا۔اس احمدی کا نام حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب تھا شہید کرنے سے قبل آپ کو کہا گیا کہ اب بھی وقت ہے کہ احمدی ہونے سے انکار کر دو تا کہ تم بیچ جاؤ۔مگر آپ نے فرمایا میں صداقت کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔