جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 79
79 مذہبی پیشواؤں کی عزت کی حفاظت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔(3 ہندو ملک میں ہر جگہ چھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے مسلمان نقصان اُٹھاتے تھے۔پھر مسلمانوں میں باہمی اختلاف بھی بہت تھے جن کی وجہ سے وہ متحد ہو کر ہندوؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ دیکھا تو مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور یہ تجویز پیش کی کہ خواہ عقائد کے لحاظ سے مسلمانوں میں آپس میں کتنا ہی اختلاف ہو لیکن سیاسی میدان میں جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اسے سیاسی لحاظ سے مسلمان ہی سمجھنا چاہئے اور سب کو متحد ہو کر ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔(4 4 1928ء میں آپ نے سیرۃ النبی کے جلسوں کی تحریک فرمائی یعنی سال میں ایک بار کوئی تاریخ مقرر کر کے اس میں جلسے کرنے کا پروگرام بنایا گیا ان جلسوں میں آنحضرت صلیاللہ کی سیرت پر مسلمانوں سے اور شریف غیر مسلموں سے تقریریں کرائی گئیں۔یہ تحریک بہت بابرکت ثابت ہوئی اس کی وجہ سے کئی غیر مسلموں کے دلوں میں جو تعصب تھا وہ دور ہو گیا۔اور انہیں آنحضرت کی سیرت کا علم ہو کر آپ کے ساتھ عقیدت پیدا ہوئی۔(5 1928ء سے 1931 ء تک انگریزوں کی حکومت نے ہندوستان کے آئین میں تبدیلیاں کرنے اور حکومت میں ہندوستانیوں کو شریک کرنے کے سلسلہ میں کئی کوششیں کیں۔اس سلسلہ میں کئی کا نفرنسیں ہوئیں جن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے نمائندوں سے مشورے کئے گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس زمانہ میں بھی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔کئی کتابیں لکھیں مثلاً ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل وغیرہ۔چنانچہ مسلمان نمائندوں نے جن میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔حضور کی ہدایت اور تجویزوں سے بہت فائدہ