جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 76
76 اپنی رائے اور مشورے پیش کرتے ہیں۔خلیفہ وقت ان مشوروں میں سے جو مناسب سمجھتے ہیں انہیں منظور کر لیتے ہیں۔اس طرح ساری جماعت کو جماعت کے معاملات کو سمجھنے اور مشورہ دینے کا موقع ملتا ہے۔از تداد کی تحریک ملکانہ اور جماعت احمدیہ کی جد وجہد : ہندوستان کے صوبہ یوپی میں مسلمانوں کی ایک قوم ملکانہ راجپوت کہلاتی ہے۔ان لوگوں میں ہند و عقائد اور رسموں کا اتنا اثر تھا کہ وہ مسلمان کہلانے کے باوجود بتوں کی پوجا بھی کرتے تھے۔23-1922ء میں ہندوؤں کے آریہ سماجی فرقہ نے ان لوگوں کو اسلام سے مرتذ کر کے ہندو بنا لینے کی تحریک شروع کی۔چنانچہ بہت سے لوگ جو ملکانہ قوم سے تعلق رکھتے تھے مرتد ہو کر ہندو بن گئے۔حضرت خلیفہ ثانی کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے ہندوؤں کی اس کوشش کو ناکام بنانے کے لئے جدوجہد شروع کی۔آپ کی تحریک پر سینکڑوں اور ہزاروں احمدیوں نے اصلاحی کام کے لئے اپنے آپ کو تین تین ماہ کے لئے وقف کیا اور وہ اپنے اپنے خرچ پر صوبہ یوپی میں جا کر مربی دین حق کے طور پر کام کرنے لگے۔حضور نے ایک خاص تنظیم کے ماتحت اس علاقہ میں احمدی مبلغین کا ایک وسیع جال پھیلا دیا اور ایسا انتظام کیا کہ جب کچھ احمدی وہاں سے واپس آتے تھے تو ان کی جگہ لینے کے لئے اور احمدی وہاں پہنچ جاتے تھے۔ان احمدیوں نے حضور کی ہدایت کے مطابق وہاں پر رات دن کام کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا که آریہ سماج کی یہ تحریک نا کام ہو گئی۔ہزاروں مسلمان مرتد ہونے سے بچ گئے اور جو مرتد ہو گئے تھے انہوں نے بھی تو بہ کر کے پھر اسلام قبول کر لیا۔اس تحریک کو حضور نے ایسی کامیابی سے چلایا کہ غیر از جماعت مسلمانوں نے بھی احمدیوں کی اس اسلامی خدمت کا اور ان کی بے نظیر کامیابی کا کھلے لفظوں اعتراف کیا۔