جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 75
75 منارة اصبح کی سیمیا اس میں حصولیا۔جماعت کی نمایاں خدمت جیسا کہ پہلے ذکر آپکا ہے کہ منارہ مسیح کی بنیاد خود حضرت مسیح موعود نے 1903ء میں رکھی تھی بعد میں مشکلات کی وجہ سے کام بند ہو گیا۔حضرت خلیفہ ثانی نے اپنے عہد خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ہی اس کی طرف توجہ فرمائی۔چنانچہ 1914ء میں دوبارہ اس کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور 1916ء میں منارۃ اصیح اپنی پوری شان کے ساتھ مکمل ہو گیا اور اس طرح حضور کے ذریعہ سے حضرت رسول کریم صل اللہ کی پیشگوئی ظاہری رنگ میں بھی پوری ہوگئی جس میں حضور نے مینارہ کے قریب مسیح موعود کے نزول کی بشارت دی تھی۔محکمہ قضا: جماعت کے لوگوں میں آپس میں جو جھگڑے ہو جاتے ہیں ان کا فیصلہ کرنے کیلئے حضور نے 1925ء میں محکمہ قضا قائم کیا جو کہ قرآن کریم کے حکموں اور دینی تعلیم کے مطابق تمام جھگڑوں کا فیصلہ کر دیتا ہے اور احمدیوں کو عدالتوں میں اپنے مقدمے نہیں لے جانے پڑتے۔مجلس مشاورت : 1922ء میں حضور نے مجلس مشاورت قائم فرمائی اس مجلس میں سال میں ایک دفعہ خلیفہ وقت کے حکم سے تمام احمدی جماعتوں کے نمائندے جنہیں وہ جماعتیں خود منتخب کرتی ہیں مرکز میں جمع ہوتے ہیں اور جماعت کے متعلق جو معاملات خلیفہ وقت کی طرف سے مشورہ کے لئے پیش کئے جائیں۔ان کے متعلق یہ نمائندے