جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 70
70 فرمایا کہ میری رائے میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہر طرح سے خلیفتہ المسیح بننے کے اہل ہیں۔اس لئے ہمیں ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہیئے۔اس کی ہر طرف سے تائید کی گئی اور لوگوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ ہماری بیعت لی جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے جو منکرین خلافت کے لیڈر تھے کچھ کہنا چاہا لیکن لوگوں نے انہیں یہ کہ کر روک دیا کہ جب آپ خلافت ہی کے منکر ہیں تو ہم کس طرح آپ کی بات سننے کے لئے تیار ہوں؟ لوگ چاروں طرف سے ٹوٹے پڑتے تھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا خدا کے فرشتے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بیعت کے لئے تیار کر رہے ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کچھ تامل کیا مگر آخر لوگوں کے اصرار پر حضور نے بیعت لینی شروع کر دی۔جو لوگ قریب نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا کر اور ایک دوسرے کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔بیعت کے بعد لمبی دعا ہوئی جس میں سب پر رقت طاری تھی۔دعا کے بعد حضور نے درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا کہ گو میں بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر خدا تعالیٰ نے مجھ پر جو ذمہ داری ڈال دی ہے مجھے یقین ہے کہ خدا اس کے ادا کرنے کی توفیق مجھے عطا فرمائے گا۔آپ سب لوگ متحد ہو کر اسلام اور احمدیت کی ترقی کی کوشش میں میری مددکریں۔اس تقریر سے سب لوگوں کے دلوں میں ایک خاص اطمینان پیدا ہو گیا۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جب دیکھا کہ جماعت نے اُن کی بات نہیں مانی تو وہ حسرت کے ساتھ اس مجمع میں سے اُٹھ کر چلے گئے اور پھر چند دن کے بعد مستقل طور پر قادیان چھوڑ کر لاہور چلے گئے اور وہاں پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کی الگ انجمن قائم کر لی۔شروع شروع میں انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ بہت تھوڑے