جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 69
69 ایک طرف حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا غم تھا اور دوسری طرف منکرین خلافت کے فتنہ کا خوف تھا جو ہر مخلص احمدی کو بیتاب کر رہا تھا۔اور وہ بیقراری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھا۔نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک بہت درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی جس میں آپ نے فرمایا کہ دوستوں کو بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی مدد فرمائے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔دوسرے دن خلافت کا انکار کرنے والوں کو سمجھانے کی ایک آخری کوشش کی گئی۔حضرت خلیفہ اسح الثانی نے انہیں یہاں تک کہا کہ اگر آپ خلافت سے انکار نہ کریں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کثرت رائے سے آپ لوگوں میں سے کوئی خلیفہ منتخب ہو جائے تو ہم سچے دل سے اُسے قبول کریں گے لیکن یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ایک رسالہ چھاپ کر تیار کر رکھا تھا جسے حضور کی وفات ہوتے ہی کثرت سے جماعت میں تقسیم کر دیا گیا۔اس پروپیگنڈا کی وجہ سے انہیں امید تھی کہ جماعت ان کی باتوں کو ضرور مان لے گی۔اس لئے وہ اپنی باتوں پر اڑے رہے۔آخر 14 / مارچ کو نماز عصر کے بعد سب احمدی جو دو ہزار کی تعداد میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے تھے مسجد نور قادیان میں جمع ہوئے۔سب سے پہلے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی وصیت پڑھ کر سنائی۔جس میں آپ نے اپنا جانشین مقرر کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔وصیت پڑھنے کے ساتھ ہی ہر طرف سے لوگوں کی آواز میں حضرت میاں صاحب ، حضرت میاں صاحب“ ( مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی) بلند ہونے لگیں۔حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔آپ نے خلافت کی ضرورت واضح کرنے کے بعد