جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 68
68 ایک دن اس امر کا گواہ ہے کہ آپ نے جو عہد کیا تھا اُسے کس شان سے پور کر دکھایا۔1911ء میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے ایک انجمن انصار اللہ " کے نام سے قائم فرمائی اور اس کے ذریعے تبلیغ وتربیت کے کئی کام کئے۔1912 ء میں آپ نے حج کیا۔1913ء میں اخبار الفضل“ جاری کیا۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں آپ نے کئی تبلیغی سفر بھی کئے۔جن میں آپ کی تقریروں کو لوگ خاص طور پر بہت پسند کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ ابھی بچہ ہی تھے لیکن حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی آپ نے جماعت میں پیدا ہونے والے اس فتنہ کے ابتدائی آثار کو بھانپ لیا تھا جو خلافت کے منکرین کی طرف سے بہت ہی آہستہ آہستہ ظاہر ہورہے تھے۔آپ کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ کی باریک نظر نے آنے والے خطروں کو محسوس کر لیا اور معلوم کر لیا کہ یہ لوگ خلافت کے منکر ہو کر احمدیت کی خصوصیات اور برکات کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ کی ان لوگوں کیطرف سے سخت مخالفت کی گئی مگر آپ صحیح راستہ پر ڈٹے رہے آپ نے بہادری کے ساتھ اُن کا مقابلہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت اس فتنہ سے بڑی حد تک بچی رہی۔حالانکہ یہ فتنہ پیدا کرنے والے لوگ وہ تھے جو کہ جماعت میں ذی علم اور تجربہ کار سمجھے جاتے تھے۔وہ خود کو صدر انجمن کے مالک سمجھتے تھے اور حضور کو کل کا بچہ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔مگر دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ بالآخر یہی کل کا بچہ کامیاب رہا۔انتخاب خلافت ثانیه: جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے۔حضرت خلیفہ اول مورخہ 13 / مارچ 1914ء کو بعد دو پہر فوت ہوئے تھے۔وہ جماعت پر ایک بہت ہی نازک وقت تھا۔