جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 67
67 اچھی نہیں ہے۔جتنا یہ شوق سے پڑھے اسے پڑھنے دو زیادہ زور نہ دو۔دراصل اس میں اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت تھی۔اگر آپ تعلیم میں ہوشیار ہوتے اور ظاہری ڈگریاں حاصل کرتے تو لوگ خیال کرتے کہ آپ کی قابلیت شاید ان ڈگریوں کی وجہ سے ہے مگر اللہ تعالیٰ تو خود آپ کا استاد بننا چاہتا تھا اس لئے ظاہری تعلیم آپ حاصل ہی نہ کر سکے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے مطابق خود آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دی۔چنانچہ دنیا نے نے دیکھ لیا کہ کسی علم میں بھی دنیا کا کوئی عالم آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب آپ ذرا بڑے ہوئے تو آپ کے دل میں خدمت دین کا خاص شوق پیدا ہو گیا۔چنانچہ آپ نے ایک انجمن تفخیذ الا ذہان“ کے نام سے قائم کی اور اس نام کا ایک رسالہ بھی جاری کیا اور اس طرح تحریری اور تقریری مشق کا سلسلہ شروع کر دیا۔جو جماعت کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی آپ کو حضرت خلیفہ اول نے اپنی خاص تربیت میں لے لیا۔چنانچہ قرآن شریف اور حدیثوں کی بعض کتابیں آپ نے حضرت مولوی صاحب سے پڑھیں اور آپ نے ان کی صحبت اور فیض سے بہت فائدہ اُٹھایا۔26 مئی 1908ء کو جب حضرت مسیح موعود وفات پا گئے اس وقت آپ اُنیس برس کے تھے۔آپ نے حضور کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ سے یہ عظیم الشان عہد کیا کہ الہی اگر سارے لوگ بھی حضرت مسیح موعود کی جماعت کو چھوڑ دیں تو پھر بھی میں اپنے عہد پر قائم رہوں گا اور حضرت مسیح موعود جس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اُسے پورا کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔اس عہد کے بعد ستاون برس تک حضور زندہ رہے۔آپ کی زندگی کا ایک