جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 26 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 26

26 خاطر ہر مصیبت کو برداشت کریں گے۔سب کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی سے پیش آئیں گے دین کی خدمت کو اپنی ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھیں گے۔تمام لوگوں سے ہمدردی اور مدد کا سلوک کریں گے اور مرتے دم تک ان شرائط کو پورا کرتے رہیں گے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد : مارچ 1889ء میں آپ لدھیانہ تشریف لے گئے۔یہیں پر 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ کے ایک بزرگ صوفی احمد جان صاحب کے مکان پر آپ نے بیعت لینے کا آغاز فرمایا اور اس طرح جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب (خلیفہ اول) نے سب سے پہلے بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔پہلے روز چالیس کے قریب اصحاب نے بیعت کی جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:- حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری، حضرت چودھری رستم علی صاحب، حضرت منشی ظفر احمد صاحب، حضرت منشی اروڑے خان صاحب، حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب، حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب اور حضرت میر عنایت علی صاحب وغیرہ۔(اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو ) پیشگوئی مصلح موعود 1886ء کے شروع میں آپ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور ارادہ کے ماتحت ہوشیار پور تشریف لے گئے۔وہاں پر ایک علیحدہ مکان میں چالیس روز تک عبادت میں مصروف رہے اور دین حق کی ترقی اور اشاعت کیلئے خصوصیت کے ساتھ دعاؤں ا مشغول رہے۔ان دعاؤں اور عبادتوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک میں