تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 322
تاریخ احمدیت بھارت 291 جلد اول تنقید و تبصره قادیان ایک آزمائشی کیس QADIAN A TEST CASE مرکزی انجمن احمدیہ ( رتن باغ لاہور ) کے چیف سیکرٹری صاحب نے سو صفحے کے اس پمفلٹ میں یہ بتایا ہے کہ 12 اگست سے لیکر اب تک قادیان میں کیا کچھ قتل ، خون ،لوٹمار گرفتاریاں ہوئیں۔ناظر امور عامہ قادیان نے 12 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو ایک مفصل چٹھی لکھی جس میں قادیان کے واقعات بیان کر کے ان کے تدارک کی طرف توجہ دلائی۔مرزا بشیر احمد صاحب نے سردار سورن سنگھ کو مراسلہ بھیجا۔ناظر امور عامہ نے سردار پٹیل کو چٹھی لکھی۔پھر 7 /اکتوبر کو پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھا۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے پنڈت سندر لال کی وساطت سے گاندھی جی کو ایک بیان بھیجا۔پھر چیف سیکرٹری انجمن احمدیہ نے ڈپٹی کمشنر اور علاقہ مجسٹریٹ کو خط لکھے۔پھر پنڈت جواہر لال نہروکو تار دیا۔ہائی کمشنر مسٹر سری پر کاش کو چٹھی لکھی۔پھر ناظر امور خارجہ نے پنڈت جواہر لال نہروکوخط لکھا۔ان تمام مراسلات میں قادیان کے حوادث کی۔۔۔۔۔اطلاع دی گئی اور بتایا گیا کہ ہم پر امن ہیں۔پر امن رہنا چاہتے ہیں۔حکومت کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیئے لیکن ہمارے ہاں بے شمار آدمی مارے جاچکے ہیں سینکڑوں عورتیں انحوا کی جاچکی ہیں قتل اور خون کا بازار گرم ہے۔ہماری جائیدادیں لوٹی جارہی ہیں۔اگر آپ کہیں تو ہم قادیان چھوڑ کر چلے جائیں۔اگر آپ یہ کہنے کے لئے تیار نہیں تو ہماری حفاظت کا انتظام کیجئے۔لیکن ان تمام خطوط کا کسی نے جواب نہ دیا۔اس پمفلٹ میں قادیان اور اس کے نواحی دیہات کی تباہی مساجد کے انہدام قتل وجرح اور لوٹ مار کی تفصیلات کے اعداد و شمار بھی فراہم کئے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض دوسرے واقعات کے متعلق وہ لوگ لاعلمی کا اظہار کر سکتے ہیں۔لیکن قادیان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں واقعات کا علم نہ تھا۔کیونکہ ہر مرحلے پر ہر متعلقہ حاکم اور وزیر کو اطلاع دی گئی۔اخباروں میں شور مچایا گیا لیکن جالندھر اور دہلی والوں نے ایسی چپ سادھی گویا سازش کر رکھی ہے۔قادیان کے معاملے میں حکومت ہند اور حکومت مشرقی پنجاب پر غفلت اور سنگدلی اور مسلم کشی کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔قادیان والے تقسیم پنجاب کی رو سے مشرق میں رہ گئے تھے اور امن وامان سے رہنے کا عہد کر چکے تھے لیکن انہیں بھی وہاں نہ رہنے دیا گیا اور ان کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہ کیا گیا۔“ ( روزنامہ انقلاب لاہور 6 / جنوری 1948 صفحہ 11) (بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 181،180)