تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 321
جلد اوّل 290 تاریخ احمدیت بھارت حواشی باب پنجم اس ملاقات کی خبر اخبار ” نوائے وقت لاہور نے اپنی 25 ستمبر 1947 ء کی اشاعت میں بھی دی تھی جو یتھی: مشرقی پنجاب کے وزیر اعظم سے احمدیوں کے وفد کی ملاقات لاہور 23 ستمبر: آج احمدیوں کے ایک وفد نے مشرقی پنجاب کے وزیر اعظم ڈاکٹرگوپی چند بھارگو اور سردار سورن سنگھ سے ملاقات کر کے قادیان کے عوام پر حکومت کے ناجائز تشدد کا شکوہ کیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر بھارگو اور سورن سنگھ نے اس وفد کو یہ یقین دلایا ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت مسلمانوں کے مکمل اخراج کی خواہاں نہیں ہے۔“ نوٹ: یہ پہلا وفد حسب ذیل ارکان پر مشتمل تھا۔حضرت نواب محمد الدین صاحب، چوہدری اسد اللہ خاں صاحب، جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور۔یہ وفد 23 ستمبر 1947ء کو جالندھر میں مشرقی پنجاب کے وزراء اور ہوم منسٹر سے ملا۔(بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 179 مطبوعہ 2007ء) اخبار انقلاب لاہور 20 ستمبر 1947ء صفحہ 2 پر گاندھی جی کو مرکزی انجمن احمدیہ کا تار“ کے عنوان سے حسب ذیل خبر شائع ہوئی: -2 لاہور 18 ستمبر پاکستان کی مرکزی جماعت احمدیہ نے گاندھی جی کی اس تجویز کا دلی خیر مقدم کیا ہے کہ آبادی کا تبادلہ نہ کیا جائے۔سیکرٹری صاحب نے جو تار گاندھی جی کو بھیجا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری متعلقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے جو حکومت اس ذمہ داری سے عہدہ بر آنہیں ہوسکتی وہ دنیا کی نظروں میں واجب الاحترام نہیں ٹھہر سکتی۔اور آبادی کا تبادلہ حکومتوں کو دیوالیہ بنا کر رکھ دیگا۔وہ احمدی جن کے گھر مشرقی پنجاب میں ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جانے پر آمادہ ہیں۔گاندھی جی سے استدعا کی گئی کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کو معرض استعمال میں لا کر ان -3 لوگوں کی حفاظت کا انتظام کرائیں۔(بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 179 مطبوعہ 2007ء) جماعت احمدیہ کی طرف سے کس طرح ہر مرحلہ پر بھارتی حکومت اور اس کے راہنماؤں کو مطلع اور باخبر رکھا اور قیام امن کے لئے اپیلیں کیں ، تار دیئے، وفود بھیجے۔اسکی مکمل تفصیل حضرت قمر الانبیاء نے ایک کتابچہ - QADIAN A TEST CASE‘ میں نہایت جامعیت کے ساتھ شائع فرما دی تھیں۔روزنامہ انقلاب نے اس رسالہ پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ شائع کیا تھا: