تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 172 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 172

جلد اوّل 156 تاریخ احمدیت بھارت سیکرٹری خلافت کمیٹی نے امیر جماعت احمد یہ ونجواں کو پیغام بھیجا کہ ان کے پاس اگر ان کی کاشت کی ہوئی روئی میں سے کچھ اور ہوتو وہ بھی بھجوا دیں۔جس پر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کے ذریعے مزید آٹھ دس سیر روئی قادیان پہنچ گئی۔جو مولانا درد صاحب نے حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ بھیج دی کہ وہ صحابیات کے ذریعہ حضرت اقدس کے ارشاد کے ماتحت اس روٹی کا سوت تیار کروالیں۔چنانچہ انہوں نے نہایت مستعدی کے ساتھ دار مسیح موعود میں صحابیات سے سوت کتو ا دیا۔جس سے صحابی بافندگان کے ذریعے قادیان اور تلونڈی میں کپڑا بنوایا گیا۔جھنڈے کا سائز کیا ہو؟ اس امر کی نسبت کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ کپڑا 18 فٹ لمبا اور 9فٹ چوڑا ہو۔اس فیصلہ کے مطابق تیار شدہ کپڑے مطلوبہ سائز میں بدلنے میں صحابہ درزیوں کی خدمات حاصل کی گئیں (42) ابھی حال میں ہی مؤرخہ 11 ستمبر 2016ء کو عزیزم محمد اکرم صاحب کارکن نظارت امور عامه اور عزیزم ریحان احمد شیخ شاہد مربی سلسله شعبه تاریخ احمدیت قادیان کے ہمراہ ونجواں جانے کا موقعہ ملا۔وہاں تین معمر عیسائی افراد سے ملاقات ہوئی۔ان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ سردار محمد صاحب کو جانتا ہے وہ یہاں کے رہنے والے تھے۔اس نے اپنی یادداشت کے مطابق وہ جگہ دکھائی جہاں شہداء کو دفن کیا گیا تھا۔(واللہ اعلم بالصواب) موضع تلونڈی جھنگلاں کا دفاع قادیان سے بٹالہ جاتے ہوئے متلے والی نہر عبور کرنے کے بعد راستے میں ایک گاؤں و ڈالہ گر نتھیاں آتا ہے۔اس گاؤں کی دائیں جانب ایک سڑک تلونڈی جھنگلاں نامی گاؤں کو جاتی ہے۔تقسیم ملک سے قبل اس گاؤں میں افراد جماعت کی بڑی تعداد مقیم تھی جو صدیوں سے اس گاؤں کے باشندے تھے اور اس کے گردو نواح کی اراضی کے مالک تھے۔احمدیوں کی دو مساجد کے علاوہ ایک پرائمری اسکول تھا۔سن 1947ء میں جب حالات سنگین صورت اختیار کرنے لگے تو تلونڈی جھنگلاں اور اس کے قرب و جوار میں احمدی افراد کی حفاظت کے لئے مستقل خدام میں سے 25 خدام کے دستے کو قادیان سے وہاں بھیجوایا گیا۔اس دستہ میں (سابق صوبیدار ) جناب عبد الغفور عبدل بھی تھے۔باقی آگے کی تفصیل انہی کے