تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 173 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 173

تاریخ احمدیت بھارت 157 جلد اوّل الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں: اگلا دن بھی انتظار میں گزرا۔مغرب کی نماز کے بعد کیپٹن شیر ولی صاحب نے ایک مختصر تقریر میں کہا کہ آپ عشاء کی نماز کے بعد سوجائیں اور ساڑھے بارہ بجے شب لوگ اسی جگہ جمع ہو جائیں۔آپ کو تلونڈی جھنگلاں لے جایا جائے گا۔اسی وقت اسلحہ تقسیم کیا گیا۔مجھے تھری ناٹ تھری کی رایفل اور ایک سو پچاس راونڈ ملے۔محمد عیسی کو شاٹ گن اور صلاح الدین کو بر چھا۔اسی طرح ہر شخص کو حسب حال اسلحہ تقسیم ہوا۔ہم اسی رات کے پچھلے پہر اندھیری رات میں بابا شیر ولی کے ساتھ روانہ ہوئے شہر سے باہر جا کر کیپٹن صاحب نے دعا کے ساتھ ہم کو رخصت کیا اور خود واپس چلے گئے۔ہم کوئی پچیس کے قریب آدمی تھے جو صبح تقریبا چار بجے تلونڈی جھنگلاں پہنچ گئے۔کچھ احمدی دوست پہلے سے وہاں موجود تھے۔حوالدار نور محمد صاحب آف شکار ماچھیاں نے ہمارا استقبال کیا اور ہم کو یہاں کے حالات تفصیل سے بتلائے۔اس محاذ کے انچارج صو بیدار اللہ یا ر صاحب تھے جو سر گودھا کے رہنے والے تھے۔لیکن ہماری اس والنٹیر فورس کا اصل روح رواں حوالدار نورمحمد ہی تھا۔یہ شخص نہایت دلیر ، بہادر اور لیڈر قسم کا آدمی تھا۔ہر خطرہ کے موقع پر شیر کی طرح ڈٹ جاتا تھا اور سب سے آگے ہوتا تھا۔اس محاذ پر ہمارے آنے کے بعد 40-35 آدمی ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو کیپٹن حضرت میاں شریف احمد صاحب کے تحت فوج میں ملازمت کر چکے تھے اور سب ایک دوسرے سے واقف تھے۔سب کے نام تو یاد نہیں ، ہاں چند ایک نام یاد ہیں۔فضل الہی گجراتی ، کھاریاں کے رہنے والے مخلص نوجوان تھے۔کبڈی کے چمپئین کھلاڑی ، بے فکرے ، ہر خطرے میں کود جانے والے۔عبد الرحمن صاحب چک نمبر چھ ہر پہ ضلع ساہیوال کے رہنے والے تھے سگنل کمیونیکیشن کے ماہر تھے۔ٹارچ یا شیشہ کے ذریعہ سے منارۃ امسیح سے پیغام وصول کرتے اور بھیجتے تھے۔اور پھر ہم کو صورت حال سے آگاہ کرتے تھے۔جلال الدین بٹ پکیواں ضلع گرداسپور کے رہنے والے تھے اور حضرت مرزا شریف احمد کے ساتھ فوج میں رہ چکے تھے۔ان کے ایک بھائی جمال دین بٹ اسی فوج میں جمعدار تھے۔یوسف قادیانی جو سار چور کے رہنے والے تھے،اس گاؤں میں زیادہ آبادی غیر احمدیوں کی تھی لیکن احمدی گھرانے بھی کافی تھے۔ایک خاندان سکھوں کا تھا جو بظاہر ہمارے ساتھ تعاون کرتا تھا۔پورے گاؤں میں اب عمومی کنڑول والنٹیر کے ہاتھ میں تھا۔حوالدار