تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 171 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 171

تاریخ احمدیت بھارت 155 جلد اول دیہاتوں کو منتخب کیا گیا جو سرحد سے نزدیک تھے۔مؤرخہ 21 /اگست 1947ء کو مفسدہ پردازوں نے ونجواں پر حملہ کر دیا اور بے دردی سے احمدیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔نہتے افراد دفاع کی بھی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ونجواں کی گلیاں کوچے مسجد شہیدوں کے خون سے لہولہان ہو گئیں۔زخمی درد سے کراہنے لگے۔مگر ظالم فسادیوں نے لوٹ کھسوٹ کا کام جاری رکھا۔کسی طرح یہ خبر قادیان پہنچائی گئی اور یہاں سے خدام بھجوائے گئے۔وہ ہر طرح کی ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے ونجواں میں داخل ہوئے۔جس جرات و دلیری سے یہ خدام آئے مفسدہ پردازوں نے یہ سمجھا کہ مسلم ملٹری آگئی ہے اور وہ دم دبا کر بھاگ گئے۔بہر حال خدام نے شہداء کی لاشوں کو جمع کیا اور ایک قبر میں دو دو تین تین شہداء کو ایک قریبی کھیت میں دفن کیا۔( یہ واقعہ سن کر غزوہ احد کے شہداء کی تدفین یاد آ جاتی ہے جنہیں آنحضرت صلی للہ یہ تم نے اسی طریق پر دفن کیا تھا۔) تدفین کے بعد خدام زخمیوں اور عورتوں اور باقی افراد کو خطرات کے نرغے میں سے نکال کر قادیان لانے میں کامیاب ہو گئے۔محترم سردار محمد صاحب کے آنسو رواں تھے۔پگڑی کے پلو سے صاف کرتے جاتے تھے۔بعد ازاں خاکسار جب بھی ونجواں گیا اس کے گلی کوچوں کو دیکھ کر شہیدوں کا لہو یاد آیا۔جس سے یہ ایک دن رنگی گئی تھی۔انشاء اللہ ان شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ارض و نجواں کے کھیتوں کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ انہیں وہ روئی اگانے کا موقعہ ملا جس کے سوت سے وہ کپڑا بنا گیا جس سے جماعت احمدیہ کا پہلا جھنڈا بنا۔جو آخرین کا علم تھا۔تفصیل اس اجمال کی تاریخ احمدیت سے درج ذیل ہے: وو روئی کی خرید کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ایسی کپاس مل جائے جسے صحابیوں نے کاشت کیا ہو۔تو بہت اچھا ہو۔چنانچہ حضور کو اطلاع ملی کہ سندھ میں اس قسم کی کپاس موجود ہے۔گو وہاں تو ایسی کپاس نہ مل سکی۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضور کی اس مبارک خواہش کو اور طرح سے پورا فرما دیا۔اور وہ اس طرح کہ میاں فقیر محمد صاحب امیر جماعت احمد یہ ونجواں ضلع گورداسپور جو صحابی ہیں، قادیان تشریف لائے۔اور کچھ سوت حضرت ام المومنین کی خدمت میں پیش کیا۔اور عرض کیا کہ میں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے ہاتھ سے بیج بو یا اور پانی دیتارہا۔اور پھر چنا اور صحابیوں سے دھنوایا اور اپنے گھر میں اسکو کتو ایا ہے۔یہ سوت پہنچنے پر مولانا عبد الرحیم صاحب درد