تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 74 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 74

جلد اوّل 58 تاریخ احمدیت بھارت وہاں سے آگئے ہیں اس لئے باقی عورتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔کچھ عورتیں تو ایسی دلیر ہیں کہ وہ نکلنے سے انکار کر دیتی ہیں۔لیکن اکثر عورتیں اور بچے ان عورتوں اور بچوں کو دیکھ کر جو وہاں سے نکل آئے ہیں گھبرا ر ہے ہیں۔اور یوں بھی وہاں کی غذائی حالت خراب ہے۔نمک مرچ سب ختم ہو چکا ہے۔گو میں نے یہاں سے انتظام کر کے یہ چیز میں وہاں کچھ بھجوائی ہیں۔مگر پھر بھی وہاں کی غذائی حالت تشویشناک ہے۔آٹے کا انتظام نہیں ہو سکتا۔گھی ختم ہے۔لکڑی ختم ہے۔اس لئے عورتوں اور بچوں کو قادیان سے نکالنا قادیان کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔پس جس جس دوست کی طاقت میں ہو اور وہ ٹرک کا انتظام کر سکتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ ٹرکوں کا انتظام کر کے میاں بشیر احمد صاحب کو ملیں تا کہ ایک نظام کے ماتحت عورتوں اور بچوں کو وہاں سے نکالا جا سکے۔جو دوست یہاں موجود ہیں ان کا اگر کوئی فوجی دوست واقف ہو تو اسے فوراً یہ اعلان پہنچا دیں اور اگر وہ خود انتظام کر سکتے ہوں تو خود ٹرکوں کا انتظام کر کے ہمیں اطلاع دیں۔پنجاب اور سندھ میں جہاں جہاں فوجی افسر یا کمشنر افسر ہیں جن کو ٹرکیں مل سکتی ہیں۔ان سب کو چاہئیے کہ وہ ٹرکوں کے متعلق پوری کوشش کریں اور جلد سے جلد ہمیں اس بارہ میں اطلاع دیں تا کہ ہم ٹرک قادیان بھجواسکیں اور عورتوں اور بچوں کو وہاں سے نکالا جائے“۔(11) اللہ تعالیٰ نے حضور کی اس تحریک میں زبر دست برکت ڈالی اور لاہور سے قادیان جانے والے فوجی ٹرکوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔اور (ان ایام کے سوا جن میں خود حکومت مشرقی پنجاب نے بعض بہانوں کا سہارا لے کر مگر در پردہ قادیان پر حملہ کرنے کی نیت سے ٹرکوں کو قادیان جانے سے روک دیا تھا) کنوائے کا یہ سلسلہ قریباً دو ماہ تک جاری رہا۔سب سے بڑا کنوائے جس کے ذریعہ سے قادیان کی تمام احمدی مستورات اور بچے بحفاظت لاہور پہنچ گئے 11 / 12 ماہ اکتوبر کا تھا جس میں پہلے روز اٹھارہ (18) ٹرک اور دوسرے روز بہتر (72) ٹرک تھے جو پاکستان فوج کے میجر آرنسن کی سرکردگی میں قادیان گیا تھا اس جگہ یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ میجر آرنسن ایک یوروپین یہودی افسر تھے جو قادیان کے احمدی جوانوں کا بلند حوصلہ، مضبوط کیریکٹر اوران کی غیر معمولی بہادری دیکھ کر بیحد متاثر ہوئے۔اور انہوں نے سیدنا امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ ”میں نے قادیان میں جو نو جوان دیکھے ہیں وہ ان یہودی نو جوانوں سے بھی زیادہ بہادر ہیں جنہیں فوجی طور پر ٹرینڈ کیا گیا ہے اور جو ہر قسم کے