تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 75
تاریخ احمدیت بھارت 59 59 جلد اوّل ہتھیاروں سے مسلح ہیں، نیز عرض کیا :۔آپ کے نوجوانوں نے اگر اپنی جانیں دے دیں تو بیشک ان کی موت شاندار موت ہوگی لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ انہیں مرنے نہ دیں کیونکہ اگر وہ زندہ رہے تو ان کی زندگی ان کی موت سے بھی زیادہ شاندار ہوگی“۔(12) آخری کنوائے 16 / ماہ نومبر 1947 ء کو روانہ ہوا۔یہ سب کنوائے لاہور میں جو دھامل بلڈنگ اور رتن باغ کے سامنے آکر کھڑے ہوتے تھے۔اور ان کے ذریعہ نہ صرف قادیان کی سب احمدی عورتیں اور سب احمدی بچے دشمنوں کے تمام معاندانہ اور اخلاق سوز منصوبوں کو خاک میں ملاتے ہوئے ہر طرح صحیح و سالم لاہور منتقل ہوئے بلکہ قادیان کی بقیہ احمدی آبادی بھی پوری حفاظت کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئی۔اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی قادیان کا وہ سرکلر درج کیا جانا ضروری ہے جو آپ نے اگست 1947ء کو صدر صاحبان حلقہ جات قادیان کے نام تحریر فرمایا۔اور جس کے بعد قادیان کی آبادی کا با قاعدہ انخلاء شروع ہوا۔آپ نے تحریر فرمایا:۔بخدمت صدر صاحبان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ موجودہ خطرے کے ایام میں جو احمدی عورتیں اور چھوٹی عمر کے بچے قادیان سے باہر پاکستان کے علاقہ میں جانا چاہیں انہیں اس کی اجازت ہے۔بشرطیکہ لاہور میں ان کی رہائش کا انتظام ہو سکے یا لاہور سے آگے جانے کا انتظام موجود ہو۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ قادیان سے باہر پاکستان کے علاقہ تک پہنچنے کے لئے مسلم ملٹری گارد کا انتظام موجود ہو۔مگر قادیان کا کوئی احمدی مرد آج کل بغیر اجازت باہر نہیں جاسکتا۔جس شخص کو کوئی مجبوری پیش ہو وہ اپنی مجبوری بیان کر کے اجازت حاصل کرے۔یہ بات بھی قابل وضاحت ہے کہ سلسلہ کی طرف سے مسلم کنوائے کا انتظام کیا جارہا ہے جو کبھی کبھی قادیان آیا کرے گا اور اس میں حسب گنجائش مستورات اور بچوں اور اجازت والے مردوں کو موقع دیا جائے گا۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ چونکہ گنجائش محدود ہوتی ہے اس لئے باری باری ہی موقع مل سکتا ہے جو غیر احمدی اصحاب باہر جانا چاہیں وہ بھی اس انتظام میں شامل ہو سکتے ہیں۔اگر گورنمنٹ کا کانوائے آئے تو وہ بلا