تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 73 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 73

تاریخ احمدیت بھارت 57 جلداول قادیان کی احمدی آبادی خصوصاً مستورات اور احمدی بچوں کے لاہور بھجوائے جانے کی کوشش 7 ستمبر 1947 ء کی مشاورت میں طے پایا کہ قادیان سے احمدی عورتوں اور احمدی بچوں کو لاہور پہنچانے کا فوری بندو بست کیا جائے۔یہ معاملہ جتنا سنگین ، اہم اور فوری توجہ کا مستحق تھا اتنا ہی مشکل اور کٹھن بھی تھا مگر حضرت مصلح موعودؓ نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے اپنی کوششوں کو انتہاء تک پہنچادیا۔پہلے تو انفرادی طور پر پاکستان کے احمدیوں کو قادیان جانے اور عورتوں اور بچوں کو وہاں سے لانے کی تلقین کی۔بعد ازاں 12 ستمبر 1947ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کے سامنے تحریک عام فرمائی کہ ہمیں قادیان کی عورتوں اور بچوں کو نکالنے کے لئے کم از کم دو سو ٹرکوں کی فوری ضرورت ہے جو دوست بھی ٹرک لے جا سکتے ہوں وہ اطلاع دیں تا ان کو ایک انتظام کے ماتحت قادیان بھجوایا جا سکے۔چنانچہ فرمایا:۔”ہماری جماعت کے وہ دوست جو فوج میں ملازم ہیں اور جنہیں ٹرک مل سکتے ہیں ان کو چاہئیے کہ جس طرح بھی ہو سکے ٹرکوں کا انتظام کر کے قادیان پہنچیں اور وہاں سے عورتوں اور بچوں کو نکالنے کی کوشش کریں۔فوجیوں کو اپنے اپنے رشتہ دار لانے کے لئے عام طور پر ٹرک مل جایا کرتے ہیں 20-25 دوست اس وقت اپنے اپنے رشتہ داروں کو قادیان سے لاچکے ہیں وہاں آٹھ نو ہزار عورتیں اور بچے ہیں جو نکالنے کے قابل ہیں۔ورنہ غذا کی حالت حفاظت کے انتظامات میں سخت وقتیں پیدا ہو جائیں گی۔جو فوجی دوست ہوں یہاں لاہور میں یا باہر کسی اور مقام پر اور ان کو ٹرک مل سکتا ہو ان سب کو چاہیے کہ وہ فورا ٹرکوں کا انتظام کر کے ہمیں اطلاع دیں۔فوجیوں کو ٹرک ملنے میں عام طور پر آسانی ہوتی ہے۔اور چونکہ اکثر لوگوں کے کوئی نہ کوئی رشتہ دار قادیان میں موجود ہیں۔اس لئے ہم ٹرکوں کے ذریعہ ایک نظام کے ماتحت عورتوں اور بچوں کو لا سکتے ہیں۔پس جن دوستوں کو کوئی ٹرک مل سکتا ہو وہ فوراً انتظام کر کے ٹرک قادیان لے جائیں اور وہاں سے عورتوں اور بچوں کو نکال لا ئیں۔اور اگر کوئی شخص خود ٹرک کا انتظام نہ کر سکتا ہولیکن اس کے علم میں کوئی ایسے دوست ہوں جو یہ انتظام کر سکتے ہوں تو وہ اطلاع دے دیں۔ہمیں کم از کم اس وقت دو سوٹرکوں کی ضرورت ہے تب کہیں قادیان سے عورتوں اور بچوں کو نکالا جاسکتا ہے۔چونکہ کچھ عورتیں اور بچے