تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 377
جلد اوّل 346 تاریخ احمدیت بھارت آپ نے لکھا ہے کہ مسجد نور میں تین من کے قریب قرآن شریف کے اوراق منتشر پائے گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ اس کے متعلق ڈی سی گورداسپور اور کمشنر جالندھر اور وزیر اعظم مشرقی پنجاب اور پنڈت نہر وصاحب نئی دہلی اور گاندھی جی نئی دہلی کو لکھیں کہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات انکے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچانا ہے۔یہ آنحضرت سل ای یتیم کے اس ارشاد کی عملی تو جیہہ ہے کہ دشمن کے ملک میں قرآن شریف نہ لے جاؤ۔ڈاکٹر صاحب اور کمپوڈران کی تبدیلی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔اغواشدہ مسلمان عورتوں کے متعلق جو قادیان کے ماحول میں ہیں پاکستان کے متعلقہ محکمہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وہ اپنا نمائندہ ہندوستان بھجوائیں۔(28 دسمبر 1947ء)(32) -8 خط بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے مسجد نور میں جو قرآن کریم کے ۳ من اوراق پھٹے ہوئے پائے گئے ان کا فوٹو مجھے احتیاط کے ساتھ بھجوادیا جائے۔‘ (29 دسمبر 1947ء)(33) -9 خط بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے آپ نے فون پر کہا تھا کہ عزیز مرزا ظفر احمد کے مضمون نے لوگوں کو بہت رلایا میں نے اسکے جواب میں کہا تھا کہ یہاں تو حضرت صاحب نے رونے سے منع کر دیا ہے۔اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ دعا میں رقت کا پیدا ہونا منع ہے۔حضرت صاحب کا منشاء تھا کہ قادیان سے باہر آنے والے احمدی قادیان کی یاد میں رونے کی بجائے اپنے درد اور جوش کو قوت عملیہ میں منتقل کرنے کی کوشش کریں“۔(34)