تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 378 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 378

تاریخ احمدیت بھارت 347 بہشتی مقبرہ قادیان کی حفاظت کے لئے چاردیواری کی تعمیر جلد اول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 20 / دسمبر 1905ءکو رسالہ الوصیت تصنیف فرمایا۔جس میں حضور نے اپنی وفات کے متعلق الہامات کا ذکر فرمایا۔نیز اپنے بعد قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت کے قیام کی بشارت دی۔آپ نے اسی رسالہ میں بہشتی مقبرہ کے نظام کے قائم ہونے کی خوشخبری دی۔آپ نے تحریر فرمایا:۔اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ أُنْزِلَ فِيهَا كُلُ رَحْمَةٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے۔اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں“۔(35) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک کشف جو 1898ء میں ہوا تھا۔تحریر فرمایا ” مجھے ایک جگہ دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اُس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں (36) فرمایا کہ:۔حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نام 6 اگست 1898ءکو ایک مکتوب میں تحریر ”میرے دل میں خیال ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص طور پر ایک قبرستان بنایا جائے جس طرح مدینہ میں بنایا گیا تھا۔بقول شیخ سعدی کہ ”بداں را به نیکاں بخشد کریم “ یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیا ہے۔اس قبرستان کی فکر میں ہوں کہ کہاں بنائیں۔امید ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی جگہ میسر کر دے گا اور اس کے ارد گرد ایک دیوار چاہئے۔“ (37) بہشتی مقبرہ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں مورخہ 27 دسمبر 1905ء کو