تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 376
تاریخ احمدیت بھارت 345 جلد اوّل کے نام بھجوا چکا ہوں۔ایک آپ کے نام جو اصل ہے دوسرے عزیز ظفر احمد کے نام اور تیسرے ملک صلاح الدین صاحب کے نام۔امید ہے آپ کو ان میں سے کوئی نہ کوئی خط 26-27 تاریخ تک مل جائے گا۔جلسہ کا پروگرام فون پر معلوم ہوا۔میں پہلے لکھ چکا ہوں اور آج اس کے متعلق تار بھی دے رہا ہوں کہ ایک تقریر جماعت احمدیہ کی پچاس سالہ تعلیم پر ہونی چاہئیے کہ احمدی جس حکومت کے ماتحت بھی ہوں اس کے وفادار بن کر رہیں اور اب جبکہ قادیان انڈین یونین میں آگیا ہے۔قادیان میں رہنے والے احمدی اپنے مقررہ اصول کے مطابق انڈین یونین کے وفادار ہیں اور رہیں گے۔اسی طرح جس طرح پاکستان کی حکومت کے اندر رہنے والے احمدی پاکستان کے وفادار ہوں گے۔اور لنڈن میں رہنے والے احمدی برطانیہ کے وفادار ہوں۔گے اور امریکہ میں رہنے والے احمدی امریکہ کی حکومت کے وفادار ہوں گے وعلی ہذالقیاس۔“ د و منشی محمد صادق صاحب کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ساتھ جو نیا دو منزلہ کمرہ تعمیر ہوا تھا وہ پھٹ کر ایک طرف کو جھک گیا ہے۔اس کی ضروری مرمت ہونی چاہئے ورنہ گر کر مزید نقصان کا اندیشہ ہے“۔(30) -6 خط بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان عزیز مرزا مظفر احمد سیالکوٹ سے آئے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں۔کہ میں نے ڈی سی گورداسپور کو فون کیا تھا اور ہمارے مکان کی ، جو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے گرا کر مکان گوردوارے میں شامل کر لیا ہوا ہے اس کے متعلق فون پر بات کی تھی۔ڈی سی صاحب گورداسپور نے کہا کہ میں نے حکم دے دیا ہوا ہے کہ اگر احمدی اپنی دیوار تعمیر کرائیں اور کوئی۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) مزاحم ہو تو اسے گرفتار کیا جائے۔مظفر نے کہا کہ موجودہ حالات اور موجودہ فضا میں بہتر یہ ہے کہ حکومت خود اپنے انتظام میں دیوار تعمیر کرا دے اور ہم سے خرچ لے لے۔ڈی سی صاحب نے اتفاق کیا کہ ایسی ہدایات جاری۔۔۔۔کر دیں گئے۔(27 دسمبر 1947ء)(31) 7 خط بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ” جو دوست اپنی خوشی سے اگلی ٹرم میں قادیان ٹھہر نا چاہیں انہیں اجازت دی جائے۔جزاهم الله خير وكان معهم لیکن احتیاطاً حضرت صاحب سے بھی پوچھ لوں گا اور پھر اطلاع دوں گا۔