تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 18 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 18

تاریخ احمدیت بھارت 17 جلد اوّل کے غیر ممالک کے پاسپورٹ ہر وقت تیار رہنے چاہئیں تا کہ جب ہجرت کا وقت آئے پاسپورٹ بنوانے پر وقت نہ لگے۔اسی طرح اسی وقت سے میں نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ ایک ایک سیٹ سلسلہ کی کتب کا سات آٹھ مختلف ملکوں میں بھجوا کر سلسلہ کا لٹریچر محفوظ کر لیا جائے۔(1) مرزا محمود احمد (خلیفہ مسیح)"(6) 22/5/1948 حضرت خلیفہ المسح الثاني الصلح الموعود نے مجلس مشاورت 1946 کے موقعہ پر فرمایا: میں نے قدم بقدم جماعت میں ان قربانیوں کا احساس پیدا کرنے کے لئے وقف جائیداد کا طریق جاری کیا تھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد کم سے کم یہ احساس اپنے اندر پیدا کریں کہ ہم سے جب بھی کسی قربانی کا مطالبہ کیا جائیگا ہم اس کو پیش کر دیں گے اور اپنے دل میں سے نکال دیں کہ بار بار جانی اور مالی قربانی کا مطالبہ کرنے کے باوجود ابھی تک جان اور مال کو قربان کرنے کا وقت نہیں آیا۔زمانہ اس وقت کو قریب سے قریب تر لا رہا ہے۔میں نہیں کہ سکتا کہ آج سے دس سال بعد یا ہیں سال بعد یا پچاس سال بعد وہ زمانہ آنے والا ہے۔مگر بہر حال وہ منزل ہمارے قریب آرہی ہے۔اور جب تک ہماری جماعت اس دروازہ میں سے نہیں گزرے گی وہ صحیح معنوں میں ایک مامور کی جماعت کہلانے کی بھی حقدار نہیں ہوسکتی۔یہ قطعی اور یقینی اور لازمی بات ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے ہوئے خطروں کے طوفانوں سے گزریں گے۔اسی طرح یہ قطعی اور یقینی اور لازمی بات ہے کہ ہمیں ایک دفعہ ہجرت کرنی پڑے اور اپنے مکانوں اور جائیدادوں سے محض اللہ کے لئے دست بردار ہونا پڑے۔مگر ابھی تک ہم اس امتحان سے بھی نہیں گزرے۔بہر حال یہ دن جلد یا بدیر آنے والا ہے اور ہماری جماعت کے افراد کو اس دن کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیئے۔ہمیں کیا معلوم کہ وہ دن کب آنے والا ہے“۔(7) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے مؤرخہ 25 فروری 1947ء کو افراد جماعت کو لمصل حفاظت مرکز قادیان کے لئے چندہ دینے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: ان ہولناک ایام کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی بچائے تو بچائے