تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 17 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 17

جلد اوّل 16 تاریخ احمدیت بھارت سیدنا ! بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج کل میں تذکرہ کا کسی قدر بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔مجھے بعض الہامات وغیرہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید جماعت پر یہ وقت آنے والا ہے کہ اسے عارضی طور پر مرکز سلسلہ سے نکلنا پڑے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت حال غالباً گورنمنٹ کی طرف سے پیدا کی جائے گی۔اگر یہ میرا خیال درست ہو تو اس وقت کے پیش نظر ہمیں کچھ تیاری کرنی چاہیئے۔مثلاً مذہبی اور قومی یادگاروں اور شعائر اللہ کی حفاظت کا انتظام وغیرہ تا کہ اگر ایسا وقت مقدر ہے تو جماعت کے پیچھے ان کی حفاظت رہے۔اور نشانات محفوظ رہیں۔اسی طرح دوسری باتیں سوچ رکھنی چاہئیں۔فقط والسلام (دستخط) خاکسار مرزا بشیر احمد (4)-26-4-1938 اس محمد پر حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسی ثانی نے اپنے قلم مبارک سے حسب میل نوٹ تحریر فرمایا۔عزیزم مکرم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں تو بیس سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں حق یہ ہے کہ جماعت اب تک اپنی پوزیشن کو نہیں سمجھی۔ابھی ایک ماہ ہوا میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ مسجد اقصیٰ وغیرہ کے لئے گہرے زمین دوز نشان لگائے جائیں جن سے دوبارہ مسجد تعمیر ہو سکے۔اسی طرح چاروں کونوں پر دُور دُور مقامات پر مستقل زمین دوز نشانات رکھے جائیں جن کا راز مختلف ممالک میں محفوظ کر دیا جائے تا کہ اگر ان مقامات پر دشمن حملہ کرے تو ان کو از سرنو اپنی اصل جگہ پر تعمیر کیا جاسکے۔پاسپورٹوں کا سوال بھی اسی پر مبنی تھا۔(دستخط ) مرزا محموداحمد (خلیفتہ المسیح) 5 ہر دو خطوط کی اشاعت کے وقت سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنا درج ذیل نوٹ شامل کیا: اس میں جو یہ فقرہ ہے کہ پاسپورٹوں کا سوال بھی اسی پر مبنی تھا۔اس کا اشارہ اس طرف ہے کہ انہی پیشگوئیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے حکم دیا تھا کہ تمام خاندان کے اور سلسلہ کے بڑے بڑے کارکنوں