تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 353 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 353

جلد اول 322 تاریخ احمدیت بھارت امور کو اطاعت اور فرمانبرداری سے نبھاتا تھا۔علاوہ ازیں نمازوں اور تہجد کی ادائیگی بھی باقاعدگی سے کرتا۔ذکر الہی تلاوت قرآن مجید، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی کتب کے مطالعہ سے اپنے دل و دماغ کو منور کرتا۔اس مخدوش اور پر خطر ماحول نے ان کی عبادات میں ایک خاص قسم کا خشوع اور خضوع پیدا کر دیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے جماعتی انتظامیہ نے مختلف قسم کے ورزشی و تفریحی پروگرام بھی مرتب کئے ہوئے تھے۔جس کی ہر ایک درویش پابندی کرتا۔محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب مرحوم و مغفور ابن حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب) جو اس وقت قادیان میں ناظر اعلیٰ تھے درویشوں کے ابتدائی حالات و واقعات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:۔وو جب یہ آخری مرحلہ طے ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے پھر ایک سکون بخشا اور سب کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اچھا اب جو مقصد ہمارے رہنے کا ہے وہ پورا ہوا۔اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ پیچھے رہنے والوں میں ایک معجزانہ تبدیلی پیدا ہوگئی۔اور یکا یک ہر ایک اس بات میں کوشاں ہو گیا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ کے سب ارشادات پر پورا عمل کیا جاوے اور اس کے لئے نہ صرف اجتماعی طور پر کوشش کی گئی بلکہ ہر ایک شخص فرداً فرداً اس کوشش میں لگ گیا تا کہ اس کے بھائی کی شستی سے احمدیت کو یا جماعت کو نقصان نہ ہو۔اور وہ لوگ جو کہ پہلے فرائض پر ہی اکتفا کرتے تھے بہت شوق سے نوافل پر زور دینے لگے اور جو کہ پہلے ہی نوافل کے عادی تھے انہوں نے مزید عبادات پر زور دیا۔مساجد میں چھ وقت کی نماز پانچ فرض نمازیں اور ایک تہجد ) لوگ اس شوق اور ذوق سے ادا کرتے ہیں اور اس طرح سنوار سنوار کر اپنی عبادت کرتے ہیں کہ خیال ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی اس کے عادی ہیں۔اور نہ صرف مسجدوں میں بلکہ باہر بھی لوگ زیادہ وقت خاموشی اور ذکر الہی میں گزارتے ہیں۔پیر اور جمعرات کے دن تو ہر شخص روزہ رکھتا ہی ہے۔الا ما شاء اللہ جو طاقت رکھتے ہیں وہ ہر روز روزہ رکھتے ہیں۔اور جہاں بڑی بڑی تقریروں کے بعد کسی کو کسی وظیفہ یا خاص عبادت کے لئے آمادہ نہ کیا جا سکتا تھا وہاں اب کسی کے کان میں کسی خاص طرز کے وظیفے کی بھنک پڑ جائے تو اسے شروع کر دیتے ہیں۔بہشتی مقبرہ جا کر لوگ باقاعدگی سے دعا کرتے ہیں۔اور ہر ایک کی دعا میں وہی الحاح اور زاری ہوتی ہے۔جس کی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہاں کے رہنے والوں سے امید کی تھی۔