تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 352
تاریخ احمدیت بھارت 321 جلد اول عہد درویشی کا سفر اور درویشان کی قابل رشک زندگی مؤرخہ 16 نومبر 1947 ء کو آخری کنوائے ( قافلہ ) لاہور کی طرف روانہ ہو گیا اور درویش درویشی کا طویل سفر طے کرنے کے لئے محلہ احمدیہ کی طرف واپس آگئے۔فراق اور جدائی کے اثرات چہروں پر نمایاں ہو گئے۔مگر جانے والوں کے ساتھ جانے کی نہ کسی کو خواہش تھی نہ تمنا۔آرزو تھی تو صرف یہی کہ مقامات مقدسہ کی نگہبانی کی سعادت تادیر ملتی چلی جائے۔قافلہ روانہ کرنے کے بعد درویشان کرام جب واپس محلہ احمدیہ میں آئے تو ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا کہ تعداد تو صرف 313 ( تین صد تیرہ) افراد کی ہے اور محلہ احمدیہ کی حدود اربعہ بہت وسیع اور عریض ہیں۔اس کی نگرانی کیسے ممکن ہوگی اور اس کے لئے جماعتی انتظامیہ نے با قاعدہ ایک لائحہ عمل بنایا۔اور ان درویشان کو مختلف گروپس میں تقسیم کرتے ہوئے حساس مقامات پر پہرہ داری کے لئے متعین کیا گیا۔حکومت سے معاہدے کے مطابق جوایر یا درویشان کرام کے احمدیہ ائے مختص کیا گیا تھا اس میں درج ذیل مقدس و تاریخی مقامات اور اہم عمارتیں شامل تھیں۔مسجد اقصیٰ مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ کے مشرقی جانب وہ عمارت جس میں اس وقت صدر انجمن کے دفاتر اور ضروری ریکارڈ تھا ( 2 ) قصر خلافت، دفاتر تحریک جدید، محاسب صدر انجمن احمدیہ، نصرت گرلز سکول ( نصرت گرلز اسکول جو ماضی میں نظام دین اور امام دین کے گھر تھے۔اب اس جگہ (2012ء میں) ایک خوبصورت باغیچہ بنا دیا گیا ہے ) تعلیم الاسلام سکول ، مدرسہ احمدیہ، بورڈنگ مدرسہ احمدیہ، مہمان خانہ بہشتی مقبرہ کا سترہ ایکڑ پر مشتمل رقبہ، مسجد فضل، مسجد ناصر آباد ، احمد یہ شفاخانہ کی عمارت ( جو ماضی میں میر محمد اسماعیل صاحب کا مکان تھا اور بعد میں الفضل کا دفتر بنا ) ضیاء الاسلام پریس کی عمارت وغیرہ وغیرہ۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے خود ان مقامات کی حفاظت فرمائی اور خوش قسمت تھے وہ درویش جن کو اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی ذمہ داری کے لئے منتخب کیا۔درویشوں کی اکثریت نوجوان تھی۔ان میں سے اکثر کی شادیاں نہیں ہوئی تھیں اور جن کی ہوئی بھی تھیں ان کے اہل وعیال قادیان سے جا چکے تھے۔اور سب کے سب درویش مجردانہ زندگی گزار رہے تھے ان میں سے ہر ایک درویش اپنے مفوضہ