تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 354
تاریخ احمدیت بھارت 323 جلد اول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ ان کا ایک شغف ہے۔زیادہ وقت مساجد میں گزارنا اور اللہ اور اس کے رسول کی باتیں کرنا۔لغویات سے پر ہیز ان کی ایک عادت بن گئی ہے۔لڑائی جھگڑے سے اور ایسی جگہوں سے جہاں فساد یا فتنہ کا امکان ہو بہت اجتناب کیا جاتا ہے۔القصہ یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے اس چھوٹی سی جماعت کو اتنی جلدی اپنے اندر ایسی عظیم الشان تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق دی۔صحت کا بھی خیال ہے۔عصر کی نماز کے بعد والی بال ، ہا کی اور بعض دوسری کھیلیں کھیلی جاتی ہیں۔صبح ورزش اور پی ٹی بھی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جماعتی کام مثلاً کمرہ یا دیوار وغیرہ بنانے کے لئے مٹی اینٹوں وغیرہ کے لانے کا کام بڑی خوشی سے کیا جاتا ہے۔ابھی پہرہ داروں کے لئے ایک کمرہ بہشتی مقبرہ میں بنایا گیا ہے اور دو اور بنائے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ بہشتی مقبرہ کے ارد گرد دیوار بنانے کا بھی ارادہ ہے۔انشاء اللہ۔۔۔۔۔سب سے آخر یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہاں جس قدر لوگ ٹھہرے ہیں کسی کے دل میں بھی ذرا بھر انقباض نہیں کہ ہم کیوں ٹھہرے۔بلکہ دل سے خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ خدا نے یہ فضل کیا کہ ہمیں یہاں ٹھہرنے کا موقعہ ملا۔اور اس نیکی کے کرنے کی توفیق دی کہ معلوم نہیں پھر کسی کو منی بھی ہے کہ نہیں۔اور اگر ملنی بھی ہے تو کب اور سب سے زیادہ تو یہ کہ اب بعد میں جو آویں گے۔وہ پہلے ٹھہر نے والے نہ کہلا سکیں گے۔ہمارے شیر ولی خاں صاحب خصوصاً بار بار کہتے ہیں کہ خدا کا کتنا فضل ہوا کہ وہ ٹھہر گئے۔چونکہ انہوں نے کام پچھلے دنوں بہت اچھا کیا تھا اس لئے ان کو بھجوانے کا خیال تھا۔مگر جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ جذبہ ہر ایک کا ہے۔وہ چونکہ حضرت ام المومنین کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے ہیں۔اس لئے یہی کہتے رہتے ہیں کہ اوشیر ولی اگر تو یہاں نہ رہتا تو حضرت 66 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں رہنے کی اور دعائیں کرنے کی کہاں تو فیق ملی تھی۔“ وقت تو گذر جاویگا۔مگر یہ خدا تعالیٰ کے انعامات اور یہ باتیں دل سے کبھی بھول نہیں سکتیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری آزمائشوں کو بھی ہمارا انعام بنادیا۔(3) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اگست 1947ء میں قادیان سے لاہور ہجرت فرما گئے تھے۔کم و بیش 6 / چھ ماہ کے بعد حضرت اصلح الموعود نے بعض صحابہ کو قادیان واپس بھجوایا۔جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بلند پایہ صحابی حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی بھی شامل تھے (جو مئی