تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 319 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 319

جلد اوّل 288 تاریخ احمدیت بھارت پیدا ہوئیں جو سب خدا تعالیٰ کے فضل سے دین و دنیا میں بہت اچھے ہیں اور ہمیشہ خدمت کے کاموں میں آگے رہتے ہیں۔مکرم با بوعبدالکریم صاحب اور دیگر شہدائے پونچھ با بوعبد الکریم صاحب ابن نواب علی خان صاحب یوسف زکی پو نچھر ریاست جموں و کشمیر۔آپ 8 جون 1933 ء کو ایک خواب کی بنا پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔جماعت میں آپ کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کو 1933ء میں ایک برطانوی فوجی کی حیثیت سے شرق اوسط یعنی مشرق وسطی میں جانے کا موقع ملا تو وہاں آپ نے جامعہ ازھر کی مجلس افتاء کو یہ استفسار بھیجا کہ کیا قرآن کریم اور سنت نبوی سے عیسی بن مریم علیہ السلام وفات یافتہ ثابت ہوتے ہیں یا چوتھے آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اسی استفسار کے جواب میں الاستاذ محمود شلتوت مفتی مصر نے وفات مسیح کے حق میں اپنا وہ عظیم الشان مدلل فتویٰ دیا جو جماعت کے لٹریچر میں بہت شہرت پا گیا ہے۔ان پر بہت دباؤ ڈالا گیا علماء کی طرف سے کہ اس فتویٰ کو واپس لے لیں یا اس میں تبدیلی کریں لیکن وہ مرد خدا قائم رہا۔یہ واقعہ استفتاء کا انہی بابو صاحب سے تعلق رکھتا ہے۔واقعۂ شہادت: بابوعبدالکریم صاحب نے اپنی ملکیتی زمین کا ایک حصہ جماعت احمد یہ پونچھ کی مسجد کے لئے وقف کیا ہوا تھا۔بابو صاحب کی نگرانی ہی میں یہ مسجد زیر تعمیر تھی اور اسے جموں کے سات احمدی معمار تعمیر کر رہے تھے کہ ملک کی تقسیم ہوگئی۔پونچھ شہر میں مظفر آباد۔۔۔۔کشمیر سے جو ہندو اور سکھ ہجرت کر کے آئے تھے انہوں نے اس وقت جب اس زیر تعمیر مسجد میں عصر کی نماز ہو رہی تھی اور محترم بابو عبدالکریم صاحب کے علاوہ جموں کے سات آٹھ احمدی معمار بھی شامل تھے مسجد پر حملہ کر کے ان سب کو شہید کر دیا اور پھر بابوعبدالکریم صاحب کے مکان پر حملہ کر کے ان کی والدہ صاحبہ اور پہلی بیوی کو بھی شہید کر دیا۔دوسری بیوی اپنی بچی سمیت حملہ آوروں سے بچ گئیں۔حکومت نے ان سب شہداء کو پونچھ جیل سے متصل قبرستان میں دفن کر دیا۔انا للہ وانا الیه راجعون۔