تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 318
تاریخ احمدیت بھارت 287 جلد اول چکے تھے۔اناللہ واناالیه راجعون۔آپ کے والد صاحب جو ان دنوں تنزانیہ میں تھے وہ بھی اللہ کے فضل سے بہت مخلص انسان تھے۔در اصل ان سے ہی اخلاص ورثہ میں پایا تھا۔ان کی ڈائری کے اندراج بتاریخ 3 رستمبر 1947ء میں یہ پر خلوص عبارت درج ہے۔” آج قادیان میں عزیز محمد منیر خان شامی نے شہادت پائی۔الحمد للہ رب العالمین۔“ پسماندگان: آپ غیر شادی شدہ تھے۔آپ کے تین بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں۔سب سے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد حفیظ خان صاحب آج کل ٹورانٹو میں رہتے ہیں۔شہید کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے محمد معین خان صاحب لاہور میں اور پروفیسر محمد شریف خان صاحب ربوہ میں مقیم ہیں۔جبکہ ان کی بہن خدیجہ بیگم صاحبہ مانٹریال میں آباد ہیں۔مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اور عزیزم عظیم احمد شہید ولد پنڈت عبداللہ صاحب قادیان حمیدہ بیگم اہلیہ عبد السلام پنڈت صاحب اور عظیم احمد ولد پنڈت عبداللہ صاحب۔عمر ساڑھے چار سال۔شہدائے قادیان۔قادیان میں کرفیو لگا ہوا تھا۔جماعت نے محلہ کی عورتوں اور بچوں کو فضل حسین صاحب بوٹوں والے کے گھر رکھ کر دشمن کو بے خبر رکھنے کی خاطر گھر سے باہر تالا لگا دیا تھا۔حملہ آوروں کے جتھے نے تالہ توڑ کر اندر آ کر لوٹ مار اور قتل و غارت شروع کی۔پنڈت عبداللہ صاحب کے بڑے بیٹے عبدالسلام پنڈت کی اہلیہ حمیدہ بیگم اپنی ایک بھانجی کو بچانے کی کوشش میں شہید کر دی گئیں۔پنڈت عبداللہ صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا عظیم احمد عمر ساڑھے چار سال اپنے بھائی بابومسعود کی گود میں تھا حملہ آوروں نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر بھی کاٹ ڈالا اور یہ کم سن موقع پر ہی شہید ہو گیا۔اس وقوعہ میں پنڈت عبداللہ کے ایک بیٹے پنڈت نصر اللہ صاحب جو آج کل ربوہ میں ڈسٹمپر وغیرہ کا کام کرتے ہیں کو بھی شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔عبدالسلام پنڈت صاحب ہالینڈ والے باسط صاحب کے ابا ہیں۔ہالینڈ والے عبدالباسط صاحب کو سب جماعت ہالینڈ کے لوگ ان کے خاص غیر معمولی اخلاص کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن جو بیگم ان کی شہید ہوئی تھیں ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔حمیدہ بیگم صاحبہ، سلام صاحب کی پہلی بیگم تھیں۔دوسری شادی امتۃ القیوم صاحبہ سے ہوئی جو ہالینڈ والے عبد الباسط کی والدہ ہیں۔ان سے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں