تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 282
جلد اوّل 252 تاریخ احمدیت بھارت کے بعد سہروردی صاحب کو مسجد اقصی کی وہ جگہ دکھائی گئی جہاں بم گرائے گئے تھے۔پھر جناب سہروردی صاحب نے بعض احمدیوں کے ساتھ منارۃ اسیح پر سے مسجد فضل، دار الفتوح ، دار الرحمت وغیرہ محلے دیکھے جن پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کیا تھا۔جناب سہروردی صاحب نے یہاں سے شہر کی تصویریں لیں۔اور دور بین پکڑ کر کہا کہ لاؤ میں مسلمانوں کا وہ کالج آخری بار دیکھ لوں۔جواب غیر مسلموں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔اس پر ڈاکٹر ڈنشا مہتہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے۔یہ عارضی طور پر جارہا ہے پھر ضرور جلدی ہی واپس آئے گا۔اس کے بعد جناب سہر وردی صاحب اور ڈاکٹر ڈنشا مہتہ وغیرہ جیپوں میں بیٹھ کر بیت الظفر گئے۔جہاں سے یہ لوگ بذریعہ ہوائی جہاز واپس چلے گئے۔جناب سہروردی صاحب اور ڈاکٹر ڈنشا نے جاتے ہوئے وعدہ کیا کہ ہم وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب نہرو کو سب واقعات بتائیں گے اور آپ کے ڈھائی تین سو آدمیوں کے یہاں بحفاظت رہنے کا پورا انتظام ہو جائے گا۔مورخہ 24 / اکتوبر : صبح کو مس سارہ بائی صاحبہ اور مسٹر کرشنا مورتی پھر آئے اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب۔مرزا عبد الحق صاحب سے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں ملاقات 66 کی بہشتی مقبرہ بھی دیکھنے گئے۔‘ (30) حکومت کی طرف سے تین سو تیر و احمدیوں کو قادیان میں رہنے کی اجازت اور درویشان کا انتخاب جماعت احمدیہ کے عہدیداران حکومت سے کم از کم ایک ہزار احمدیوں کو قادیان میں رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔جب کہ سرکاری حکام ایک سو سے زیادہ رکھنے پر آمادہ نہ تھے اور ان کے بارے میں بھی شرط یہ عائد کی جا رہی تھی کہ پچاس ساٹھ سال کی عمر کے ہوں۔جماعت کو نہ یہ شرط منظور تھی اور نہ ہی اتنی کم تعداد کافی طویل گفت وشنید کے بعد تین سو تیرہ احمدیوں کے لئے ایک مختص علاقہ میں رہنے پر حکومت رضامند ہوگئی۔اس رضامندی کے بعد جماعتی عہدیداران ان تین سو تیرہ افراد کے ناموں پر غور کرنے لگے۔جنہیں قادیان میں رکھا جاتا تھا۔اس ضمن میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ملک غلام فرید صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولوی عبد الرحمن صاحب