تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 281 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 281

تاریخ احمدیت بھارت 251 جلداول منور احمد صاحب نے ان کو ہسپتال کے متعلق تازہ کوائف بتائے اور پھر ان کے ساتھ موٹر میں بیٹھ کر ہسپتال گئے۔دیکھا تو تمام تالے ٹوٹے پڑے تھے۔قیمتی سامان لوٹ لیا گیا تھا۔اپریشن روم سے سب کے سب اوز ارلٹ چکے تھے۔ڈاکٹر سوفٹ صاحب نے بے ساختہ کہا افسوس ہسپتال برباد کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔بعد ازاں ڈاکٹر سوفٹ کے کہنے پر ہسپتال میں فوجی پہرہ لگا دیا گیا۔تھوڑی دیر بعد مرزا منور احمد صاحب دوبارہ حضرت میاں ناصر احمد صاحب، ملک غلام فرید صاحب، مولوی جلال الدین شمس صاحب اور مرزا عبد الحق صاحب کے ساتھ بیت الظفر گئے۔جہاں ملک غلام فرید صاحب نے مسٹر کرشنا مورتی صاحب کو سب واقعات بتائے اور کہا کہ جب ہم لوگ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیوں نکالا جاتا ہے؟ کہنے لگے بات یہ ہے کہ تم لوگ INDO PAKISTAN BORDER کے بالکل قریب ہو۔اس لئے یہ سب کچھ ہے۔اس گفتگو کے بعد مس سارہ بائی کو قادیان کے خونچکاں حالات بتائے گئے۔مس سارہ بائی نے اس موقعہ پر مقامی ہندو سکھوں کو بھی جو باہر آئے ہوئے تھے اندر بلالیا اور کہا۔اغوا شدہ عورتوں کی بازیابی اور غلط افواہوں کے تدارک وغیرہ کے لئے ایک امن کمیٹی قائم کی جائے۔چنانچہ ان کی تجویز پر ایک کمیٹی بن گئی جس میں دو ہندو ، دو سکھ اور دو احمدی ممبر بنے۔(احمدیوں میں سے ایک ممبر حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل مرحوم تھے۔ناقل ) مورخہ 23 اکتوبر : اس روز تقریباً ساڑھے دس بجے جناب حسین شہید صاحب سہروردی۔میجر جنرل تھا یا صاحب کے ساتھ ہوائی جہاز پر آئے اور جہاز سے اتر کر سیدھے شہر میں احمدیوں کے حلقہ کی طرف آئے۔مگر میجر جنرل تھمایا صاحب تو واپس بیت الظفر چلے گئے۔سہروردی صاحب کے ساتھ ڈاکٹر ڈ نشامہتہ صاحب بھی تھے جو گاندھی (جی) کے خاص نمائندے کی حیثیت سے آئے تھے۔ان لوگوں کو حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان پر بٹھایا گیا اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب ، ملک غلام فرید صاحب ، مولوی جلال الدین شمس صاحب اور مرزا منور احمد صاحب ملاقات کے لئے گئے۔اور ان کو نہایت تفصیل کے ساتھ قادیان کے گزشتہ واقعات سے مطلع کیا۔جن کو دونوں نے بہت دلچسپی سے سنا اور ساتھ کے ساتھ نوٹ بھی لیتے گئے۔ساڑھے گیارہ بجے تک ملاقات ہوتی رہی۔دونوں ہی ان واقعات سے بہت متاثر معلوم ہوتے تھے۔اس موقعہ پر بنگال کے احمدیوں کا وفد بھی سہروردی صاحب سے ملا۔اس