تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 283
تاریخ احمدیت بھارت 253 جلد اول انور کو اپنے درج ذیل مکتوب گرامی کے ذریعہ بعض راہنما اصول بھجوائے۔یہ چاروں بزرگان 16 نومبر 1947 ء تک قادیان میں ہی مقیم تھے۔درویشان کے انتخاب کے سلسلہ میں حضرت مصلح موعودؓ کا ایک مکتوب ”بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته اب تک یہ ہو رہا ہے کہ ہم خط لکھتے ہیں اور ادھر سے جواب یا آتا ہی نہیں یا آدھا جواب آتا ہے اور آدھا نہیں آتا۔ایسے وقت میں کہ ہر دفعہ خیال ہوتا ہے کہ اگلا خط آئے گا یا نہیں یہ حالت نہایت افسوس ناک ہے۔اس لئے اس خط کی چار نقلیں بھجوا رہا ہوں۔یعنی میرزا ناصر احمد کو۔بابا غلام فرید صاحب کو اور انور صاحب کو ( 31 ) اور یہ خط آپ کو، آپ میں سے ہر اک کا فرض ہے کہ دیکھے کہ ایک ایک بات کا جواب آتا ہے اور جو باتیں اس خط میں تعمیل کے بغیر رہ جائیں آئندہ ان کا خیال رکھا جائے کہ بغیر اس کے کہ ان کی نسبت یاد دہانی کروائی جائے انکی تعمیل آپ لوگ کرتے رہیں۔(1) - 30 دیہاتی مبلغ جو مانگے گئے تھے ان میں سے صرف نو پہنچے ہیں۔باقی 21 مبلغ اس دفعہ بھجوائے جائیں ان کو تاکید ہو کہ آتے ہی رپورٹ کریں۔(2) پچھلی دفعہ بہت سے نوجوان بورڈنگ تحریک سے آگئے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم کو زبردستی بھجوایا گیا۔ملٹری نے اور خدام نے۔بہت سے گواہوں سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اس دفعہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔نوجوانوں کو پہلے ہی قادیان بلوالینا چاہئے تھا تا کہ اس قسم کی شرارت نہ ہوتی۔آخر ان کو باہر کیوں رکھا ہوا ہے۔(3)۔قادیان سے باہر آدمی بھیجوانے کے متعلق یہ امور مد نظر رہیں:۔(الف) - محافظین دوسو کے قریب ہیں۔ان میں سے ایک سو وہاں رکھے جائیں۔خواہ طوعی طور پر خواہ قرعہ ڈال کر۔افسر بھی مناسب تجویز کر لئے جائیں۔باقی توے کے قریب اور ہوگا۔ان کو مختلف قافلوں میں باہر بھجوا دیا جائے۔انکو فارغ نہ کیا جائیگا بلکہ یہاں کام لیا جائے گا اور باری باری ان کا تبادلہ مرکزی محافظین سے ہوتارہے گا۔