تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 265
جلد اوّل 236 تاریخ احمدیت بھارت پردازوں) کے جتھے نے محلہ دار السعتہ پر حملہ کیا اور بہت سے مسلمانوں کو لوٹ لیا۔حملہ آور مسلمانوں میں داخل ہو گئے۔ان مکانوں میں نواب محمد الدین باجوہ سابق وزیر ریاست جودھ پور کا مکان بھی شامل ہے۔اس سلسلہ میں دوسری اطلاع مظہر ہے کہ جو نہی۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ان کے مکانوں میں داخل ہونے کی خبر قادیان میں پھیلی۔خدام الاحمدیہ کے صدر نے نوجوانوں کوان۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو مکانوں سے نکالنے کے لئے بھیجا۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) مقابلے کی تاب نہ لاکر بھاگ گئے۔محلہ دارالسعتہ کے چاروں طرف پہرہ سخت کر دیا گیا اور خالی مکانوں میں پناہ گزینوں کو دوبارہ بسادیا گیا۔“ 11 - مؤرخہ 24 ستمبر 1947 ء کی اشاعت میں ”انقلاب“ لکھتا ہے:۔قادیان کے ایک محلہ پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا حملہ، نواحی گاؤں پر قبضہ کر لیا گیا پولیس کر فیولگا کر تلاشیاں لیتی رہی۔لائسنس و اسلحہ ضبط کر لیا گیا۔لاہور 22 ستمبر: صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نے مندرجہ ذیل بلیٹین جاری کیا ہے۔گزشتہ شب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قادیان کے ایک محلہ پر جو شمال مشرق میں واقع ہے 19 ستمبر کو۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں نے حملہ کیا۔پولیس موقعہ پر پہنچ گئی۔مگر اس نے حملہ آوروں سے تعرض کرنے کی بجائے اس احمدی محلے میں خانہ تلاشیوں کا سلسلہ شروع کرد یا اور اسلحہ کی تلاش ہوتی رہی۔پولیس کا یہ طرز عمل تحیر خیز ہے۔ایک طرف تو قانون شکن جتھے کھلے بندوں مصروف عمل ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو اپنے بچاؤ کے لئے کوئی ہتھیار رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔غالباً پولیس یہ تسلی کر لینا چاہتی ہے کہ مسلمان نہتے ہیں اور جب ان پر حملہ ہو جائے تو ان کے پاس بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں۔منگل کے گاؤں پر جو قادیان سے کوئی آدھ میل دور ہے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے قبضہ کر لیا۔ایک کانوائے پر جو قادیان سے پناہ گزین لا رہا تھا۔قادیان اور بٹالہ کے درمیان حملہ ہوا۔حفاظتی فوجی دستے کو گولی چلانی پڑی۔ایک اور اطلاع مظہر ہے کہ پولیس نے قادیان میں کرفیو گا کر تلاشیاں لیں۔امام جماعت احمد یہ کے مکان پر چھاپہ مار کر لائسنس والی بندوقیں اور ان کے کارتوس چھین لئے گئے۔پولیس تمام اسلحہ جس کا لائسنس لوگوں نے لے رکھا ہے چھین رہی ہے کرفیو کا وقت شام کے چھ بجے سے صبح پانچ بجے تک ہے۔“ (او۔پی) (21)