تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 259
جلد اوّل 230 تاریخ احمدیت بھارت حیات تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مرزا صاحب نے بریگیڈیر تھمایا کے حالیہ بیان اور آل انڈیا ریڈیو کے اس اعلان کو قادیان میں بالکل امن ہے، جھٹلایا اور حیرانی ظاہر کی ہے کہ اتنے بڑے اور ذمہ دار عہدے پر فائز کوئی افسر اتنا سفید جھوٹ بول سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کہا ہم پہلے بھی بارہا اعلان کر چکے ہیں اور میں پھر دوہرانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کا مسلک ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ با اقتدار حکومت کا ساتھ دے اور اس کی وفادار رہے۔ہم نے حکومت ہند کو بھی یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ احمد یہ جماعت کے جو پیر و قادیان میں مقیم رہیں گے وہ ہندوستان کے ہر طرح سے وفادار رہیں گے۔مگر ہمیں افسوس ہے کہ باوجود ہمارے یقین دلانے کے اور باوجود گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے بار بار یہ کہنے کے کہ ہندوستان سے ان مسلمانوں کو نہیں نکالا جائے گا جو انڈین ڈومنین سے اپنی وفاداری کا یقین دلائیں گے مشرقی پنجاب کی حکومت کی انتہائی کوشش یہ ہے کہ کس طرح قادیان خالی ہو جائے۔اور اس ارادے کا اظہار کئی طریقوں سے مشرقی پنجاب کے افسر کر چکے ہیں۔ان سب تکلیفوں اور مظالم اور مشکلات کے ہوتے ہوئے مرزا صاحب نے اس مصمم ارادے کا اظہار کیا کہ جب تک حکومت ہند صاف الفاظ میں یہ نہ کہہ دے کہ تم لوگوں کو قادیان خالی کر دینا چاہیئے ہم قادیان ہر گز ہرگز خالی نہ کریں گے اور ہم اس مقصد کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔مرزا صاحب نے کہا کہ ان کے سات نوجوان بیٹے ابھی تک قادیان میں ہیں اور آخری دم تک وہیں رہیں گے۔مرز ا صاحب نے آخر میں انتہائی ناراضگی اور افسوس کا اظہار کیا کہ قادیان کے حکام نے جماعت کو ا پنی لائبریری اور سائنس انسٹی ٹیوٹ کو پاکستان منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی۔انہوں نے بتایا کہ یہ لائبریری ہندوستان بھر میں سب سے بڑی چار اسلامی لائبریریوں میں سے تھی اور اسی طرح ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی۔یہ دونوں جماعت کی اپنی ملکیت تھیں اور ان پر قبضہ کرنے کا حکومت کو کوئی حق نہیں۔7۔نیز 19 / اکتوبر کو یہ خبر شائع کی کہ وو (نامہ نگار ) 16 اکتوبر کو انبالہ سے اسی ہزار مسلمان مہاجرین ریل گاڑیوں میں لاہور پہنچے۔اسی ہزار 66 مہاجرین سہارنپور سے اور سات ہزار قادیان سے موٹروں پر پہنچے۔“