تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 258
تاریخ احمدیت بھارت 229 جلد اوّل صورت حال کے متعلق جو خبریں موصول ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہو گئی ہے۔قادیان کے ایک محلہ پر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غنڈوں نے حملہ کر دیا۔لیکن محلہ والے تیس غنڈوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔بعد ازاں پولیس اور فوج حملہ آوروں کی امداد کے لئے پہنچ گئی اور محلے والوں کو بری طرح گولیوں کا نشانہ بنادیا۔پولیس اور فوج کی کارروائیوں میں بیشمار مسلمان شہید ہو گئے۔مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کی لاشوں کے پاس تک نہ جانے دیا گیا۔قادیان سے ایک فوجی مسلمان کپتان لاہور پہنچا ہے۔اس کا مکان لوٹ لیا گیا ہے۔چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کا مکان بھی لوٹا جا چکا ہے۔ٹی۔آئی ڈگری کالج کی عمارت پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور کالج کی عمارت لاہور کے سکھ نیشنل کالج کے لئے وقف کر دی گئی ہے۔پاکستان کا ایک ہوائی جہاز کل قادیان پر سے ہو کر لاہور پہنچا ہے۔ہوائی جہاز والوں کی روایت کے مطابق ہر طرف تباہی و بربادی کے آثار پائے جاتے ہیں مقامی 66 مسلمان مسجدوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔“ 6۔پھر ای اخبار ”نوائے وقت“ نے حضرت امیر المومنین الصلح الموعود کی پریس کانفرنس میں بیان فرمودہ قادیان کی موجودہ صورت حال کے متعلق ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔قادیان اور حکومت ہندوستان مرزا بشیر الدین محمود احمد کی پریس کانفرنس لاہور 16 اکتوبر : مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ نے آج شام کو ایک پریس کانفرنس میں اخباری نمائندوں کو قادیان کی موجودہ صورتِ حال سے آگاہ کیا۔مرزا صاحب نے بتایا کہ قادیان میں اکا دُکا حملے ابھی تک ہورہے ہیں۔پناہ گزینوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔اور جماعت احمدیہ پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ قادیان کو خالی کر دیں۔شہر کے بہت سے حصے خالی کر دیئے گئے ہیں اور باقی ماندہ آبادی کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ شہر کے صرف ایک حصے میں جس میں آبادی کی تعداد کے لحاظ سے بہت کم مکانیت ہے جا کر رہے۔یہ جگہ بہت تنگ ہے۔وہاں کے لوگوں کو تنگ جگہ میں رہنے پر مجبور کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ بالآخر وہ شہر خالی کرنے پر آمادہ ہو جا ئیں۔راشن دینا بھی بالکل بند کر دیا گیا ہے اور قادیان کے باشندوں پر عرصہ