تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 230 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 230

تاریخ احمدیت بھارت 201 جلد اوّل کہ 200 مسلمان شہید ہوئے ہیں۔اور حملہ کروا کر ہمارے محلوں کولوٹ لیا اور خالی کرالیا گیا اور بے شمار مال لوٹ لیا گیا۔اس پر جب جنرل تھمایا نے سوال کیا کہ میری رپورٹ تو یہ ہے کہ صرف تیس آدمی مرے ہیں۔تو میرے بڑے لڑکے (حضرت مرزا ناصر احمد صاحب۔ناقل ) نے بتایا کہ میں آپ کو صرف ایک گڑھا ایسا بتا سکتا ہوں جس میں 40 مسلمان دبے پڑے ہیں۔اور ابھی اور بھی بہت سے گڑھے ہیں۔اس پر تھا یا صاحب خاموش ہو گئے۔مگر پھر بھی بیان اس کے خلاف دیا۔جن پناہ گزینوں کو قافلوں کی صورت میں قادیان سے بالجبر بھیجا گیا تھا ان کو خوراک نہیں دی گئی۔ایک عورت کا بیان ہے کہ اس نے چھ دن شیشم کے پتے کھا کر گزارے۔ہماری جماعت نے قادیان سے قافلے کے لئے 20 بوری گندم اُبال کر افسروں کی خواہش پر بھیجی۔مگر وہ بھی ان کو نہ دی گئی اور جانوروں کو کھلا دی گئی۔پھر کئی دن کے بعد ان کو آدھی آدھی روٹی دی گئی۔اور ساتھ یہ کہا کہ ہم نے مسٹر جناح اور تمہارے خلیفہ کو تار دی تھی۔مگر انہوں نے روٹی نہیں دی۔مگر آج نہرو جی کی طرف سے تم کو کھلائی جاتی ہے۔ان حالات کے باوجود ہمارا پختہ ارادہ ہے کہ جب تک حکومت ہندوستان ہم کو قادیان سے نکل جانے کا حکم نہیں دے گی ، ہمارے آدمی قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔اگر چہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے نوجوان وہاں مارے جائیں گے۔مگر قومیں قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔اگر ہم آج قربانیاں نہ دیں گے تو ہماری آئندہ نسلوں کو بھی قربانیاں دینے کی تحریک نہ ہوگی۔1 آپ نے فرمایا کہ میرے لڑکے نے بذریعہ فون مجھے بتایا ہے کہ ایک اکالی لیڈر نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ اگر ننکانہ صاحب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا ہمیں یقین دلایا جائے تو ہم قادیان کے مقدس حصہ کو آباد رہنے دیں گے۔مگر یہ صرف قادیان کا سوال نہیں بلکہ اسلامی مقدس مقامات کا سوال ہے۔مثلاً سر ہند ، درگاہ نظام الدین اولیاء، درگاہ اجمیر شریف وغیرہ۔ان کے متعلق باعزت سمجھوتہ کی کوشش ہونی چاہئیے۔آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں ہمارے مقدس مقامات جو مشرقی پنجاب اور ہندوستان میں واقع ہیں ہمیں ان کو بغیر قربانی کے کبھی نہیں چھوڑنا چاہئیے کیونکہ قومی زندگی کے لئے ایسی قربانیاں نہایت ضروری ہوتی ہیں۔“ (11)