تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 229 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 229

جلد اوّل 200 تاریخ احمدیت بھارت قادیان کے حالات سے متعلق حضرت اصلح الموعود کی پریس کا نفرنس سید نا حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے 16 اکتوبر 1947ءکولا ہور کے پریس نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے فرمایا: قادیان کے مقامی افسراب ہم کو قادیان سے ایسی چیزیں اور سامان بھی نہیں لانے دیتے جس کی ان کو تو ضرورت نہیں مگر ہمارے لئے وہ نہایت ضروری ہے۔مثلاً ہماری لائبریری کو جس میں ہماری مذہبی علمی کتب کا نہایت قیمتی ذخیرہ ہے۔جن میں بعض عربی کے قلمی نسخے بھی ہیں بند کر کے مہر لگا دی گئی ہے۔نیز ہمارے ضیاء الاسلام پریس کو بھی۔جس سے الفضل چھپتا تھا سیل کر دیا گیا ہے۔پھر ہماری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا سامان ہے۔ڈاکٹر بھٹنا گر نے جب وہ قادیان گئے تھے تو انہوں نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان کے بہترین انسٹی ٹیوٹوں میں اس کا شمار ہوسکتا ہے۔لیکن مسلمانوں کا تو یہ واحد سائنس کا ادارہ ہے۔وہ بھی ضبط ہو گیا ہے۔فسادات کی وجہ سے ہمارا یہ کام دو سال پیچھے جا پڑا ہے۔آپ نے فرمایا۔اب ہمارے ٹرک جو قادیان سے عورتوں اور بچوں کے لینے کے لئے گئے تھے۔پہلے ان کو باہر ہی روک دیا گیا۔پھر جب وہ باہر سامان اور بچوں اور عورتوں کو لے کر نکلے تو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) اور پولیس نے حملہ کر کے سامان لوٹ لیا۔حالانکہ یہاں سے ہندو اور سکھ پناہ گزین بہت سا سامان ساتھ لے جاتے ہیں۔مگر اُدھر سے مسلمانوں کا سامان نہیں آنے دیا جاتا۔آپ نے کہا کہ قادیان کی بڑی آبادی کو نہایت چھوٹی سی جگہ میں مقید کر دیا گیا ہے۔یہانتک کہ کثرت نفوس کی وجہ سے ٹخنوں ٹخنوں تک غلاظت جمع ہو گئی تھی۔جس کو ہمارے لڑکوں اور دیگر احمد یوں نے خود صاف کیا۔ہسپتال بھی ہمارے قبضہ سے لے لیا گیا ہے اور زخمیوں اور بیماروں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔جن کا اب علاج کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔آپ نے کہا کہ ہمارے 200 آدمی وہاں حملوں میں مارے گئے ہیں۔قادیان میں دونوں حکومتوں کے نمائندے جنرل کری آپا کے حکم سے تحقیقات کے لئے گئے تھے۔لیکن جنرل تھمایا نے حکومتِ ہندوستان کو بالکل خلاف واقعہ رپورٹ دی ہے۔اتنے بڑے افسر سے اتنی امید نہ تھی۔آپ کو قادیان میں اس وفد کے سامنے ہمارے لوگوں نے واضح طور پر بتادیا تھا